صدر مملکت کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 16ویں کانووکیشن اور وار کورس کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 جون (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ "ایک خطہ، ا یک شاہراہ" کے تصور نے دنیا میں دور رس تبدیلیوں کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے بعد خطے میں نئی اسٹریٹیجک ڈاکٹرائن ضروری ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ اس سلسلے میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی دفاعی تھنک ٹینک کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر مملکت نے یہ …

اسلام آباد ۔ 21 جون (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ "ایک خطہ، ا یک شاہراہ” کے تصور نے دنیا میں دور رس تبدیلیوں کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے بعد خطے میں نئی اسٹریٹیجک ڈاکٹرائن ضروری ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ اس سلسلے میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی دفاعی تھنک ٹینک کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر مملکت نے یہ بات بدھ کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 16ویں کانووکیشن اور وار کورس کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وار کورس میں مسلح افواج اور سرکاری اداروں کے سینیئر افسران کے علاوہ 23دوست ممالک کے42 سینیئر افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں وزیراعظم کے نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اکیسویں صدی حیران کن ایجادات اور اسٹریٹیجک تبدیلیوں کی وجہ سے منفردحیثیت رکھتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری اور”ایک پٹی ایک شاہراہ “ کے تصوّر نے اس دنیا میں دور رس تبدیلیو ں کی بنیاد رکھ دی ہے جن کا دفاعی معاملات سے بھی انتہائی گہرا تعلق ہے، انھوں نے کہا کہ ان منصوبوں پر جیسے جیسے پیش رفت ہوتی جائے گی، خطے کے تزویراتی حقائق میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی جائیں گی۔ اس طرح ایک نئی اسٹریٹیجک ڈاکٹرائن ناگزیر ہو جائے گی۔

Leave a Reply