اسرائیل جان بوجھ کر غزہ کے شہریوں کو زندگی کے وسائل سے محروم کر رہا ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔5جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد حاصل کرنے کی کوشش میں فلسطینیوں کے مارے جانے کے خوفناک مناظر جان بوجھ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو زندہ رہنے کے وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔ …

اقوام متحدہ۔5جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد حاصل کرنے کی کوشش میں فلسطینیوں کے مارے جانے کے خوفناک مناظر جان بوجھ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو زندہ رہنے کے وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ محاصرہ کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا روز بروز غزہ میں خوفناک مناظر دیکھ رہی ہے جہاں فلسطینیوں کو اس وقت گولی ماری جا رہی ہے ، زخمی کیا جا رہا یا قتل کیا جا رہا ہے جب وہ صرف خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج نے منگل کو فائرنگ کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیا اور شہید ہونے والے ان کی نعشوں کو ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔

یہ جان بوجھ کر کیے گئے فیصلوں کا ایک سلسلہ ہے جس نے منظم طریقے سے 20 لاکھ افراد کو ان بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے جو انہیں زندہ رہنے کے لیے درکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش کی امدادی مراکز کے قریب ہونے والے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی اپیل دہرائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ کسی کو بھی اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو محصور پٹی میں اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

مزید خبریں