27.9 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںمسلم امہ کو ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں معصوم فلسطینیوں...

مسلم امہ کو ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر متحد ہونا چاہئے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث

- Advertisement -

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اراکین نے پاک بھارت جنگ میں مسلح افواج پاکستان کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم امہ کو ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر متحد ہونا چاہئے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، ہر تحصیل کی سطح پر یوتھ مراکز قائم کئے جائیں، کراچی کیلئے کے فور اور گرین لائن منصوبے کو ترجیح بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ 2025-26ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وحدت المسلمین کے رکن حمید حسین نے کہا کہ ایران نے دنیا میں اسلام دشمنوں کو آنکھیں دکھائی ہیں،اب وہ معافیاں مانگ رہے ہیں اور جنگ بندی کی پیشکشیں کر رہے ہیں، پاکستان نے جس انداز سے ایران کا شکریہ ادا کیا اور ان کا ساتھ دیا اس پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں پر بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار کی روڈ کھولی جائے وہاں پر لوگوں کو بہت مسائل ہیں۔اوور سیز پاکستانی معقول ترسیلات زر پاکستان بھیج رہے ہیں، ہمارے علاقے کے لوگوں کو ڈی پورٹ کیاجارہا ہے،ان کو ائیر پورٹ پر گرفتار کیاجاتا ہے،اس مسئلہ کو حل کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں دانش سکول قائم کیاجائے۔ مسلم لیگ ن کے رکن خرم شہزاد نواز نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کو بھارت کو دندان شکن جواب دینے اور قوم کا سر فخر سے بلند کرنے پر ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،قوم بھی مسلح افواج کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑی رہی اس پر ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو نئے ہسپتالوں کی ضرورت ہے،وزیر اعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس کا افتتاح کیا امید ہے وہ جلد مکمل ہوگا،اسلام آباد کے رہائشیوں کے لئے صحت کارڈ کا اجراء کیاجائے،اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے لئے مزید تعلیمی ادارے کھولے جائیں،موجود انفراسٹرکچر بہتر بنایاجائے۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہاکہ ایک دہشت گردملک اوراس ملک کی قیادت کی جانب سے پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کوناکام بنانے پر وہ حکومت اوربلاول بھٹوزرداری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، موثر سفارت کاری کی وجہ سے دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کر لیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اوروزرائے اعلی کوشامل کرنا چاہیے۔ایف بی آرکوگرفتاریوں کے اختیارات دینے کے فیصلے پرنظرثانی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں سولرائزیشن کاپروگرام شروع ہے اوراس دوران سولزپینلز پر 18 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے، اس تجویزکو واپس لیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں 80 فیصد بجٹ ایک مخصوص علاقہ کیلئے مختص ہے، اس کومنصفانہ بنانا چاہیے۔کراچی میں پینے کے پانی کے منصوبہ کیلئے فنڈز مختص کئے جائے۔بجلی کے پیک اورنارمل آورز کیلئے اوسط کی بنیادپرفارمولا بنایاجائے، گندم کی خریداری کاعمل دوبارہ شروع کیاجائے، اس سے کسانوں کوفائدہ پہنچے گا۔

اپوزیشن رکن ریاض فتیانہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ فیسکو میرے حلقہ میں بجلی کے منصوبے مکمل کرے،وہاں ایکسپریس وے کے قیام کا منصوبہ دوبارہ شروع کیاجائے۔یونیورسٹی آف کمالیہ کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کئے جائیں۔سپورٹس کمپلیکس کمالیہ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا 65 فیصد کام مکمل ہے تاہم اب کام رکا ہوا ہے اس کو مکمل کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اکانومسٹ کو جبکہ پاکستان میں ہمیشہ بینکر کو وزیر خزانہ بنایا جاتا ہے۔ یورپ اور لاطینی امریکہ کے اکثر ممالک میں معاشیات میں پی ایچ ڈی بندے کو وزیر خزانہ بنانے سے ان کی معیشت درست ٹریک پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے، ہمارے ملک میں 0.80 فیصد تعلیم کے لئے مختص ہے۔موٹر سائیکل اور سائیکل سوار کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا۔ریلوے ہر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔دماغی صحت پر توجہ دی جائے۔ہر تحصیل کی سطح پر یوتھ سنٹر قائم کئے جائیں۔ زرعی بہتری کے لئے ٹیوب ویل کے لئے بجلی میں رعایت دی جائے۔ تمباکو اور کولڈ ڈرنکس پر مزید ٹیکس لگائے جائیں۔سیاسی جماعتوں کے استحکام کے لئے انہیں فنڈز فراہم کئے جائیں۔ ایم کیو ایم کے رکن ارشد ووہرا نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی میں لوڈشیڈنگ کم کرے۔18 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جی ڈی پی میں پنجاب کا حصہ 55 ہے۔

کے پی اور بلوچستان کا حصہ 15 کراچی کو چھوڑ کر سندھ 5 فیصد جبکہ صرف سندھ کا حصہ 25 فیصد ہے تاہم کراچی کے لئے مناسب بجٹ نہیں۔ وہاں انڈسٹری چلانے کے لئے گیس وپانی نہیں۔ کے فور کو مکمل کرنے کے فنڈز دیئے جائے۔ کراچی اگر درست ہوگا تو تمام قرضے اتار دے گا۔گرین لائن کی نواز شریف دور میں بنیاد رکھی گئی تاہم آج تک مکمل نہیں ہوا۔کراچی میں سرکلر ریلوے سی پیک کا منصوبہ تھا تاہم اس پر کام ہی شروع نہیں ہو سکا۔ اس پر وزیراعظم توجہ دیں۔

صوبائی حکومت نے کے فور کی آگمنٹیشن کے لئے ملنے والے 75 ارب روپے سے کام ہی شروع نہیں کیا جا سکا۔ بڑے شہروں کی طرح کراچی میں بھی سیف سٹی منصوبہ پر توجہ دی جائے۔ علی زاہد نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ کشیدگی کے ماحول میں حکومت کی جانب سے متوازن اورعوام دوست بجٹ پیش کرنے پروزیرخزانہ اورحکومت مبارکبادکی مستحق ہے، توانائی کے شعبہ میں انقلابی بہتری آئی ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصدکی سطح پر آ چکی ہے، معاشی پالیسی اوراصلاحات کی اندرون ملک اوربین الاقوامی سطح پرتعریف ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مودی نے گرتی ساکھ کوبچانے کیلئے پہلگام کافالس فلیگ آپریشن کیا اوراس کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستان نے بھارت کو موثر جواب دیدیا ہے،آج پاکستان محفوظ پوزیشن پرہے اور ملک کی قیادت دانش مند اوربے خوف لیڈرز کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2019ء کے برعکس اس بار جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پربھی پاکستان کاموقف مضبوط ہواہے، بین الاقوامی برادری نے پاکستان کا موقف تسلیم کیاہے اوربھارت کواس محاذپربھی شکست ہوچکی ہے۔

شہریارآفریدی نے کہاکہ بجٹ میں شہریوں کی جان ومال کی حفاظت اور اس کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے، بجٹ ڈیٹا کی بنیادپربنتاہے مگرہمارے پاس لازمی ڈیٹا نہیں ہے، اسلامی نظریاتی کونسل سود کے خلاف فیصلہ دے چکاہے، سود کی وجہ سے پاکستان کی آبادی کاایک بڑاحصہ غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں چھوٹے صوبوں اورضم شدہ اضلاع کو نظر انداز کیا گیا ہے، قومیں متحد ہو کر حیران کن فیصلے کرتی ہے اورکامیابیاں سمیٹتی ہیں۔بجٹ میں نوجوانوں کیلئے اقدامات شامل نہیں ہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں