سیالکوٹ۔8جولائی (اے پی پی):سیالکوٹ، صدیوں سے تاریخی، صنعتی اور ثقافتی لحاظ سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ضلع سیالکوٹ کی تاریخ میں پہلی بار تمام اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین افسران کو تعینات ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ حکومت کی ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کا عملی مظہر ہے، جس کا مقصد خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا کردار دینا ہے۔سیالکوٹ کی موجودہ ڈپٹی کمشنرصبا ءاصغر علی نہ صرف ایک قابل، باصلاحیت اور فرض شناس افسر ہیں، ان کی تعیناتی سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ خواتین بھی اعلیٰ سطحی انتظامی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکتی ہیں۔ ان کے ساتھ چاروں تحصیلوں میں بھی خواتین اسسٹنٹ کمشنرز انعم بابر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ،غلام فاطمہ اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال،سدرہ ستار اسسٹنٹ کمشنر پسروراور سعدیہ جعفراسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ تعینات ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پورے ضلع میں تمام اہم انتظامی عہدے خواتین کے پاس ہیں، جو نہ صرف ضلع بھر کی بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک عملی مثال ہے بلکہ قومی سطح پر بھی یہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ان افسران کی موجودگی نے سیالکوٹ کی انتظامی کارکردگی میں نہ صرف بہتری پیدا کی ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی تیزی آئی ہے۔ خواتین افسران کا اندازِ حکمرانی زیادہ مشاورت پر مبنی، ہمدردانہ اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی سے شہریوں میں اعتماد بڑھا ہے، بالخصوص خواتین میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کے مسائل اب بہتر طور پر سنے اور سمجھے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کی قیادت میں متعدد اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، جن میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، عوامی شکایات کا فوری ازالہ، صفائی کے نظام میں بہتری، خواتین کے لیے محفوظ جگہوں کا قیام، اور اسکولوں و اسپتالوں کی نگرانی شامل ہے۔حکومت پنجاب کی ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کا مقصد خواتین کو صرف نمائشی عہدوں تک محدود رکھنا نہیں بلکہ انہیں فیصلہ سازی میں بااختیار بنانا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں خواتین کے لیے ملازمتوں، تعلیم، صحت اور سکیورٹی کے میدان میں بے شمار اقدامات کیے گئے ہیں۔
خواتین کو سول سروسز میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی جا رہی ہے، اور سیالکوٹ کی یہ تازہ تعیناتیاں اس پالیسی کی عملی تصویر بن چکی ہیں۔انتظامی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، جیسے سوسائٹی میں پائے جانے والے دقیانوسی تصورات، زمینی سطح پر درپیش مزاحمت، اور بعض اوقات افسرانِ بالا یا ماتحت عملے کا غیر سنجیدہ رویہ۔ لیکن ان خواتین نے اپنی صلاحیت، نظم و ضبط، شفافیت اور اصول پسندی سے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔ یہ افسران نہ صرف نظام کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی ایک رول ماڈل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں عوام کی جانب سے خواتین افسران کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب زیادہ اطمینان کے ساتھ سرکاری دفاتر کا رخ کرتی ہیں کیونکہ انہیں سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ مقامی تاجر، سماجی کارکنان، اساتذہ اور نوجوان لڑکیاں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کے ضلع میں خواتین کے ہاتھ میں اختیار ہے، اور یہ اختیارات عوامی خدمت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔سیالکوٹ کا یہ نیا ماڈل دوسرے اضلاع کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔
اگر اس تجربے کو تسلسل سے کامیابی ملتی ہے، تو یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز پر خواتین کو قیادت دی جائے۔ اس سے ایک ایسی فضا پیدا ہو گی جہاں خواتین نہ صرف برابری کی بنیاد پر کام کریں گی بلکہ اپنی ذاتی، سماجی اور قومی ترقی میں مؤثر کردار بھی ادا کریں گی۔سیالکوٹ میں خواتین افسران کی تعیناتی محض ایک سرکاری فیصلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی پیش رفت ہے۔
یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خواتین نہ صرف قوم کی نصف آبادی ہیں بلکہ وہ ہر شعبہ زندگی میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ صرف سیالکوٹ کی تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک نئی تاریخ کا آغاز ہے ۔یہ ایک ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے جس میں بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں بلکہ انہیں حقیقت کا روپ بھی دیتی ہیں۔