پاکستان پولیو کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، پاکستان اس چیلنج کے خاتمے کے لئے وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں قومی مشن کے تحت سرگرم ہے، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ پاکستان پولیو کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، پولیو اب صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود رہ گیا ہے جبکہ پوری دنیا اس مہلک مرض سے نجات حاصل کر چکی ہے، پاکستان اس چیلنج کے خاتمے کے لئے وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں ایک قومی مشن کے تحت سرگرم ہے۔منگل کو ایوان بالا کے اجلاس …

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ پاکستان پولیو کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، پولیو اب صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود رہ گیا ہے جبکہ پوری دنیا اس مہلک مرض سے نجات حاصل کر چکی ہے، پاکستان اس چیلنج کے خاتمے کے لئے وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں ایک قومی مشن کے تحت سرگرم ہے۔منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر صحت نے بتایا کہ پچھلے سال ملک میں 79 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس سال اب تک صرف 14 کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک مثبت پیش رفت ہے، ان 14 کیسز میں کوئی بھی کیس بلوچستان سے رپورٹ نہیں ہوا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حکومتی اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں، ان کیسز میں سے پانچ کیسز ایسے علاقوں سے ہیں جہاں گزشتہ تین سال سے ٹیموں کو رسائی حاصل نہیں تھی۔

وزیر صحت نے سینیٹ کو بتایا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر بلوچستان کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری اور متعلقہ ٹیموں سے ملاقات کی اور پولیو کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے قوم کے ایک بڑے طبقے میں پائے جانے والے پولیو ویکسین کے خلاف غلط تصورات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصور کہ پولیو ویکسین مضر صحت ہے، سراسر غلط ہے، اگر یہ دوا واقعی خطرناک ہوتی تو پوری دنیا میں جہاں یہی ویکسین استعمال کی گئی، وہاں پولیو کا خاتمہ نہ ہوتا بلکہ تباہی مچ جاتی۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ اگرچہ وائرس ماحولیاتی نمونوں میں ملک کے تقریباً تمام اضلاع سے پایا جا رہا ہے لیکن پولیو کیسز کی تعداد بہت کم ہے، اگر ویکسین کام نہ کر رہی ہوتی تو یہ تعداد 20 سے 25 ہزار سالانہ ہو سکتی تھی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے بچوں کی صحت اور مستقبل کا معاملہ ہے، یہ کہنا کہ ہم اپنے ہی بچوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ویکسین دے رہے ہیں، نہایت تکلیف دہ اور بے بنیاد الزام ہے۔وزیر صحت نے تمام سینیٹرز، علماء، والدین اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خلاف اس قومی مہم میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ پاکستان کو بھی جلد از جلد پولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔وزیر صحت نے افغانستان میں جاری پولیو مہم کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہم غلط فہمی کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ افغانستان میں خاص طور پر طالبان حکومت کے تحت پولیو مہم نہیں چلتی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ افغانستان کی طالبان حکومت اس وقت پورے ملک میں سوائے قندھار کے بھرپور پولیو مہم چلا رہی ہے۔صرف قندھار میں ڈور ٹو ڈور ویکسینیشن کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ وہاں طالبان کی اعلیٰ قیادت مقیم ہے، اس کے باوجود وہاں تمام بچوں کو مساجد میں جمع کر کے ویکسین پلائی جاتی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ افغانستان میں حالیہ دو پولیو ڈرائیوز ہماری مہمات کے ساتھ ہی شروع اور ختم ہوئیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کی حکومت اس مرض کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو پاکستان میں پولیو ویکسین کے حوالے سے مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر اعتراضات کرتے ہیں،اگر افغانستان جیسے ملک میں جہاں طالبان کی حکومت ہے، پولیو مہم چل رہی ہے، تو پھر پاکستان میں اسے مذہب یا ثقافت کی بنیاد پر مسترد کرنا غیر منطقی اور خطرناک ہے۔

وفاقی وزیر نے عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی زور دیا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے پاس قانونی اختیار موجود ہے کہ اگر کوئی والدین اپنے بچوں کو ویکسین نہ پلائیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایسے کیسز میں پولیس کی مدد سے والدین کو بلایا جا سکتا ہے اور بچوں کو ویکسین دی جا سکتی ہے تاکہ قوم کو ممکنہ معذوری سے بچایا جا سکے۔ وزیر صحت نے ایوان بالا اور تمام قومی اداروں سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کے قومی مشن میں اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو یہ پیغام دیں کہ یہ مسئلہ نہ مذہب کا ہے، نہ سیاست کا بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا ہے۔