اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی میں پاکستان کا پہلا جدید آبی کاشتکاری پارک قائم کیا جا رہا ہے جو سمندری خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ پارک 120 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہوگا اور اس پر تقریباً 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔پلاننگ کمیشن کے مطابق اس منصوبے سے ہر سال 360 سے لے کر 1200 ٹن تک سمندری خوراک …
پاکستان کا پہلا جدید آبی کاشتکاری پارک کورنگی میں قائم ہوگا، 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری، بلیو اکانومی کی جانب اہم پیشرفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی میں پاکستان کا پہلا جدید آبی کاشتکاری پارک قائم کیا جا رہا ہے جو سمندری خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ پارک 120 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہوگا اور اس پر تقریباً 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔پلاننگ کمیشن کے مطابق اس منصوبے سے ہر سال 360 سے لے کر 1200 ٹن تک سمندری خوراک کی پیداوار ممکن ہوگی، جس سے ملکی معیشت کو سالانہ 7 لاکھ 20 ہزار سے 72 لاکھ ڈالر تک آمدنی متوقع ہے۔ یہ پارک بلیو اکانومی کی حکمت عملی کے تحت ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد سمندر سے حاصل ہونے والے وسائل کا پائیدار استعمال اور برآمدات میں اضافہ ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف ماہی گیری کے شعبے میں جدت لائے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا اور پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں سمندری خوراک کی برآمدات کو فروغ دے گا۔یہ آبی کاشتکاری زون ماہی گیری کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور پریکٹسز متعارف کرائے گا، جس سے نہ صرف سمندری خوراک کی پیداوار بڑھے گی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔ جدید انفراسٹرکچر، پانی کی نگرانی کے سسٹمز، فیڈ مینجمنٹ، اور ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ اس پارک کا حصہ ہوں گے۔
حکومت پاکستان کی بلیو اکانومی پالیسی کا مقصد سمندری وسائل کو ایک معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہے، جس کے ذریعےماہی گیری، شپنگ، ٹورازم، اور آبی زراعت کو فروغ دیا جا سکے،روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کیے جائیں ،سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ یقینی بنایا جائےاور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔کورنگی آبی کاشتکاری پارک سے نہ صرف زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی سطح پر ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
تربیتی مراکز، تحقیقی سہولیات اور پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت سے یہ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کو علاقائی ماہی گیری کا مرکز بنا سکتا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی سمندری حدود اور وسائل کے مکمل استعمال کی جانب پہلا بڑا قدم ہے، اور آئندہ برسوں میں بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی ایسے مزید پارکس قائم کیے جائیں گے۔یہ منصوبہ نہ صرف ماہی گیری کے شعبے میں جدت لائے گا بلکہ پاکستان کو بلیو اکانومی کے عالمی منظرنامے میں ایک نمایاں کھلاڑی بنانے کی بنیاد بھی رکھے گا۔







