کلائمیٹ فناس کا عالمی حجم سال 2024 کے دوران 2ٹریلین ڈالرتک بڑھ گیا ،رپورٹ

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):کلائمیٹ فناس کا عالمی حجم سال 2024 کے دوران 2ٹریلین ڈالرتک بڑھ گیا ،زیادہ تر سرمایہ کاری الیکٹرک گاڑیوں ، شمسی توانائی اور انرجی ایفیشینسی وغیرہ کیلئے کی گئی جس کا تناسب 50فیصد یعنی ایک ٹریلین ڈالر کے مساوی ہے ،پاکستان کاربن کے عالمی اخراج میں انتہائی کم حصہ کا شراکتدار ہونے کے باوجود موسمیاتی تغیرات سے متاثرہ 5 بڑے ممالک میں شامل ہے لیکن عالمی …

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):کلائمیٹ فناس کا عالمی حجم سال 2024 کے دوران 2ٹریلین ڈالرتک بڑھ گیا ،زیادہ تر سرمایہ کاری الیکٹرک گاڑیوں ، شمسی توانائی اور انرجی ایفیشینسی وغیرہ کیلئے کی گئی جس کا تناسب 50فیصد یعنی ایک ٹریلین ڈالر کے مساوی ہے ،پاکستان کاربن کے عالمی اخراج میں انتہائی کم حصہ کا شراکتدار ہونے کے باوجود موسمیاتی تغیرات سے متاثرہ 5 بڑے ممالک میں شامل ہے لیکن عالمی برادری کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کوکم کرنے کے حوالہ سے پاکستان میں کلائمیٹ فنانس میں اضافہ کی بجائے مستقبل کے وعدوں کاہی سہارا لے رہی ہے۔

عالمی کلائمیٹ فنانس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2023ء کے دوران کلائمیٹ فنانس کا حجم 1.9ٹریلین ڈالر تھا تاہم گذشتہ سال 2024 ء کے اختتام تک سرمایہ کاری کا حجم 2ٹریلین ڈالر تک بڑھ گیا اور پہلی مرتبہ کلائمیٹ فنانس میں نجی شعبہ کا حصہ 50فیصد یعنی ایک ٹریلین ڈالرتک پہنچ گیا۔ نجی شعبہ کی جانب سے کلائمیٹ فنانس کی مد میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سمیت شمسی توانائی اور کاربن کےاخراج میں کمی وغیرہ کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ گلوبل کلائمیٹ فنانس رپورٹ کے مطابق 90فیصد مجموعی عالمی کلائمیٹ فنانس ماحولیاتی تبدیلیوں کے خاتمہ کے منصوبہ جات پر کی گئی ہے۔

دوسری جانب سال 2023 کے دوران بھاری عالمی سرمایہ کاری کے باوجودایمرجنگ مارکیٹس اور ترقی پذیر ممالک میں 196 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کی گئی ہے ۔ جس میں سے صرف 22فیصد فنانسنگ نجی شعبہ کی جانب سے کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق عالمی کلائمیٹ فنانس میں زیادہ توجہ گرانٹس ، رعایتی قرضوں اور امداد وغیرہ پرمرکوز رکھی گئی ہے ۔ اعداد وشمار کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے شکارپانچویں بڑے ملک پاکستان میں 2021 کے دوران تقریباً 4ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کی گئی جس میں سے 84فیصد شیئر غیر ملکی شراکتداروں کا تھا ۔

عالمی کلائمیٹ فنانس رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے بچانے کیلئے سالانہ 30تا 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیات تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار عالمی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 2030 تک کلائمیٹ فنانس کی مد میں 340ارب ڈالر تک کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک بشمول پاکستان کوماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے تحفظ اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے کلائمیٹ فنانس میں اضافہ کیاجائے۔