معاشی بحالی کی جانب پیش قدمی: مالی سال 2025 میں نمایاں بہتری، مالی سال 2026 کے لئے پائیدار اور جامع ترقی کے اہداف مقرر

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):مالی سال 2025 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے نمایاں بحالی اور بڑھتی ہوئی مضبوطی کے واضح شواہد پیش کئے ہیں جو پائیدار معاشی نظم و نسق اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ آؤٹ لک اپ ڈیٹ کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 2.68 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح نمایاں کمی …

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):مالی سال 2025 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے نمایاں بحالی اور بڑھتی ہوئی مضبوطی کے واضح شواہد پیش کئے ہیں جو پائیدار معاشی نظم و نسق اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ آؤٹ لک اپ ڈیٹ کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 2.68 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح نمایاں کمی کے ساتھ 4.5 فیصد پر آ گئی جو پچھلے کئی سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

یہ بہتری شرح سود میں کمی، زرِ مبادلہ کی شرح میں استحکام اور محتاط معاشی پالیسیوں کی بدولت ممکن ہوئی۔سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.1 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 14 سالوں میں پہلا سالانہ سرپلس اور 22 سالوں میں سب سے بڑا سرپلس ہے۔ یہ کامیابی بیرونی کھاتوں میں بہتری، برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مستحکم اضافے کی عکاس ہے۔

مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے جولائی تا مئی مالی سال 2025 کے دوران بجٹ خسارہ کم ہو کر 3.1 فیصد تک محدود رہا جو مالیاتی نظم و نسق اور وسائل کے مؤثر انتظام کی کامیاب مثال ہے۔ ان مثبت معاشی اشاریوں نے مارکیٹ کا اعتماد بحال کیا، کرنسی پر دباؤ کو کم کیا اور شرح سود میں مزید کمی کی راہ ہموار کی۔

مالی سال 2026 کا آغاز ترقی کے پائیدار اور جامع وژن کے ساتھ ہوا ہے جس میں حکومت کی ترجیحات میں مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا، محصولات میں اضافہ، زرعی و صنعتی شعبے کی جدید کاری، کاروباری ماحول کی بہتری، انسانی وسائل کی ترقی، سماجی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری شامل ہیں۔توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی میں 4.2 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو گا جبکہ قیمتوں میں استحکام کا رجحان برقرار رہے گا۔