اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ ملک بھر میں توانائی کی بچت، پانی کے موثر استعمال اور ماحول دوست تعمیرات کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا۔بدھ کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ماحول دوست وژن کے تحت پاکستان کے پہلے گرین بلڈنگ کوڈ …
پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ توانائی کی بچت، پانی کے موثر استعمال اور ماحول دوست تعمیرات کے فروغ کیلئے جامع فریم ورک فراہم کرے گا، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ ملک بھر میں توانائی کی بچت، پانی کے موثر استعمال اور ماحول دوست تعمیرات کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا۔بدھ کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ماحول دوست وژن کے تحت پاکستان کے پہلے گرین بلڈنگ کوڈ کی منظوری دی گئی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے یہ ایک اہم اور قابل تعریف اقدام ہے۔ اس کا مقصد صاف ستھری فضا، توانائی کا موثر استعمال اور ماحول کا تحفظ ہے جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ وزیراعظم کی ماحول دوست دور اندیش بصیرت پر عمل درآمد میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی اور سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی ساجد بلوچ نے ان ضوابط کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا اور ضوابط کی تشکیل کے دوران صوبائی حکومتوں، وفاقی وزارتوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے وسیع مشاورت کے بعد قومی سطح پر اتفاق رائے حاصل کیا گیا۔گرین بلڈنگ کوڈ کا اطلاق تمام نئی چار اور اس سے زائد منزلہ عمارات پر ہو گا۔ ان ضوابط میں توانائی کی بچت، شمسی توانائی پر مبنی ڈیزائن، گرین چھتیں، توانائی موثر روشنی کے نظام، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا انضمام، ماحول دوست تعمیراتی مواد کا استعمال اور بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان اقدامات سے عمارتوں میں توانائی کی کھپت میں نمایاں کمی اور ماحولیاتی معیار میں بہتری آئے گی۔بارش کے پانی کے ذخیرہ سے متعلق ضوابط کا اطلاق رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارات پر ہو گا۔ ان کے تحت بارش کے پانی کو جمع کرنے، فلٹر کرنے اور دوبارہ استعمال میں لانے کے نظام کی تنصیب لازمی ہو گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانا، زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری لانا اور میونسپل پانی پر انحصار کم کرنا ہے۔
یہ دونوں ضابطے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے بائی لاز کے طور پر منظور کیے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان میں پائیدار، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا جو نہ صرف شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔









