پیپرا نے اپنےقوانین و ای پروکیورمنٹ نظام میں اصلاحات کا عمل تیز کردیا،منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی کی ورلڈ بینک کے وفد کو بریفنگ

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) نے سرکاری خریداری کے قوانین، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرتے ہوئے وزیراعظم کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ یہ بات بدھ کومنیجنگ ڈائریکٹر پیپرا حسنات احمد قریشی نے ورلڈ بینک کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ وفد کی قیادت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان …

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) نے سرکاری خریداری کے قوانین، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرتے ہوئے وزیراعظم کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔

یہ بات بدھ کومنیجنگ ڈائریکٹر پیپرا حسنات احمد قریشی نے ورلڈ بینک کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ وفد کی قیادت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ریجنل پروکیورمنٹ منیجر ماجد ال بیّاع کر رہے تھے۔ایم ڈی پیپرا نے بتایا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی ہدایات کے تحت پیپرا اپنے ریگولیٹری فریم ورک میں نمایاں اصلاحات کی ہیں۔ اتھارٹی نے نہ صرف پیپرا آرڈیننس 2002 میں ترامیم کو حتمی شکل دی ہے بلکہ سرکاری اداوں، سپلائرز، مقامی و غیر ملکی قانونی ماہرین کی مشاورت سے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کا مسودہ بھی تیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے قواعد میں شکایات کے ازالے کیلئے ایک آزاد و موثر میکانزم، خریداری کے عمل میں شفافیت کیلئے تھرڈ پارٹی کی شمولیت ، سرکاری اداروں میں خریداری سیلز و افسران کے واضح کردار، بلیک لسٹنگ اور تنازعات کے تصفیےکیلئے متبادل نظام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا ریگولیٹری اور ڈیجیٹل نظام تشکیل دے رہے ہیں جو کارکردگی پر سمجھوتہ کیے بغیر شفافیت کو یقینی بنائے گا اور سرکاری خریداری کے عمل کو بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہم آہنگ بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ای پروکیورمنٹ یا ای پیڈز کو اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت وفاقی و صوبائی سطح پر 8,480 سے زائدادارے ای پیڈز کا استعمال کررہے ہیں جبکہ 34,500 سے زائد سپلائرز و کانٹریکٹرز یہاں رجسٹرڈ ہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران 522,000 سے زائد معاہدے جن کی مالیت 1308 ارب روپے ہے، اس پلیٹ فارم کے ذریعے طے پائے۔

پلیٹ فارم میں نئی سہولیات شامل کی گئی ہیں جس میں ای-سبمیشن، ای-ڈسپوزل، نیب اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ڈیش بورڈز، نادرا کے ساتھ بائیو ویری فیکیشن کیلئے اشتراک، عوام کیلئے ڈیش بورڈ، اتھارٹی کی نئی ویب سائٹ جیسی اقدامات شامل ہیں، جبکہ ای پیڈ ہیلپ ڈیسک کو صبح 8:30 بجے سے رات 11:30 بجے تک فعال کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ای پیڈز کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے اسے سال کے آخر تک آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں فعال کردیا جائے گا،ادائیگی کے نظام کو خودکار بنانے اور ای پیڈز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈیولز شامل کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ حسنات قریشی نےآگاہ کیا کہ اتھارٹی نے ادارے میں نئے ماہرین و سپیشلسٹ کی بھرتی کی ہے تاکہ پیپرا کے میندیٹ میں وسعت ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں تربیت و استعداد کار بڑھانے کے لئے پیپرا نے نے گزشتہ ایک سال کے دوران 46 تربیتی سیشنز میں 1,600 سے زائد سرکاری اہلکاروں و پروفیشنلز کو ای پیڈز و خریداری قوانین بارے تربیت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی بین الاقوامی پارٹنز جیسے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور یو این ڈی پی کےساتھ مل کر ماہرین کے لئے تربیتی ماڈیولز، آن لائن لرننگ پلیٹ فارم اور ایکریڈٹیشن کا نظام تیار کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے پیپرا کی اصلاحاتی کاوشوں کو سراہا اور پالیسی معاملات، ڈیجیٹل نظام کے نفاذ اور استعداد کار کیلئے جاری سرگرمیوں میں اتھارٹی کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔