اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (اے سی ایف آئی سی) کے چینی تاجروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان میں فشریز اور ایکوا کلچر پارکس کی سولرائزیشن شروع کرنے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔اس اقدام کا مقصد کاروباری آپریشنز کے لیے صاف اور بلاتعطل توانائی کو یقینی بنانا، کارکردگی کو بڑھانا اور پاکستان کی بندرگاہوں پر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی …
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری سے آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس کے وفد کی ملاقات
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (اے سی ایف آئی سی) کے چینی تاجروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان میں فشریز اور ایکوا کلچر پارکس کی سولرائزیشن شروع کرنے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔اس اقدام کا مقصد کاروباری آپریشنز کے لیے صاف اور بلاتعطل توانائی کو یقینی بنانا، کارکردگی کو بڑھانا اور پاکستان کی بندرگاہوں پر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
یہ پیش رفت بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور یی جیانگ کی قیادت میں پانچ رکنی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ اے سی ایف آئی سی نجی کاروباری اداروں کے لیے چین کے قومی چیمبر آف کامرس کے طور پر کام کرتا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینے اور چین کی غیر عوامی معیشت کو سپورٹ کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
اس کے کلیدی توجہ کے شعبوں میں صنعت، تجارت، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور تجارت شامل ہیں۔وفد سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر جنید چوہدری نے بلیواکانومی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فشریز اور ایکوا کلچر پارکس کی سولرائزیشن چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) فریم ورک کے تحت پائیدار بحری ترقی کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرے گی۔
وفاقی وزیر نے وفد کو بتایا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی زور پکڑ رہی ہے اور مالی سال 2023-24 میں قومی جی ڈی پی میں تقریباً 1 بلین امریکی ڈالر کا حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چین کو سمندری غذا کی برآمدات گزشتہ سال 125 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعاون کا اشارہ ہے۔وزیر بحری امور نے چینی سرمایہ کاروں کو گوادر کے فری زونز میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ سائوتھ فری زون اب 2,000 ٹن کی جدید صلاحیت والے کولڈ سٹوریج کی سہولت کے ساتھ مکمل طور پر کام کر رہا ہے، اس کے ساتھ ہی نارتھ فری زون میں ترقی بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے گوادر پورٹ کے سٹریٹجک محل وقوع اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی وجہ سے ایک بڑے علاقائی لاجسٹک مرکز کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت پر زور دیا۔ انہوں نے میری ٹائم سیکٹر میں قابل تجدید توانائی کے اقدامات کے لیے حکومتی حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا وژن گوادر کو صاف، توانائی کی بچت اور سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ بندرگاہ بنانا ہے۔چینی وفد نے وفاقی وزیر کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور تجارتی لاجسٹکس اور پورٹ آپریشنز میں تعاون کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔









