اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ملک میں دودھ کی سالانہ پیداوار6کروڑ50 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن(ایف اے او) کی رپورٹ کے مطابق دودھ پیدا کرنےوالے دنیا کے پانچویں بڑے ملک کے طور پر پاکستان میں دودھ کی سالانہ پیداوار65 ملین ٹن ہے جس میں زیادہ تر پیداوار دیہی معیشت سے منسلک ’’لوٹیک‘‘ ڈیری فارمز سے حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں 15 ملین چھوٹے ڈیری فارمز دودھ کی پیداوار میں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں جن کے پاس دو گائے اور بھینسیں ہیں۔ ایف اے او کے مطابق چھوٹے ڈیری فارمز پاکستان کی ڈیری اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل ہیں۔
دوسری جانب ایف اے او کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے ڈیری فارمز سے حاصل دودھ کی پیداواری لاگت ترقی یافتہ ممالک کے ہائی ٹیک ڈیری فارمز کے مقابلے میں کہیں کم ہے جس کا بنیادی سبب جانوروں کے چارہ کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ہے۔ ایف اے او کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے ہائی ٹیک ڈیری فارمز میں اوسطاً 100 سے زیادہ گائے پالی جاتی ہیں، دودھ کی بھرپور پیداوار کےلئے جانوروں کو کمپائونڈ خوراک اور ونڈا وغیرہ کھلایا جاتا ہے۔ مزید برآں ہائی ٹیک فارمز میں جانوروں کی صحت پربھی اچھے خاصے اخراجات کئے جاتے ہیں۔ اس طرح خوراک اور صحت کے اخراجات کے نتیجہ میں ہائی ٹیک ڈیری فارمز کے دودھ کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتاہے۔
دوسری جانب پاکستان بشمول ترقی پذیر ممالک میں روایتی ڈیری فارمنگ کےلئے دودھ دینے والے جانوروں کی خوراک میں گندم کا بھوسہ، گنا، چاول اورمکئی وغیرہ کی باقیات شامل ہوتی ہیں جس سے خوراک کے اخراجات کم ہوتے ہیں ۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ دیہی ڈیری فارمز کے افرادی قوت کے اخراجات بھی تقریباً نہ ہونے کے مساوی ہیں۔ ایف اے او کے مطابق پاکستان میں روایتی ڈیری فارمزایک گائے یا بھینس سے یومیہ 3 تا4 لیٹر دودھ حاصل کرتے ہیں جبکہ ہائی ٹیک ڈیری فارمز میں فی جانور دود ھ کی اوسط یومیہ پیداوار20لیٹر سے زیادہ ہے۔
ایف اے او نے تجویز پیش کی ہے کہ دیہی معیشت کی ترقی اور لوٹیک ڈیری فارمزکے وسائل آمدن میں اضافہ کےلئے جامع پالیسی اصلاحات کے تحت ملک کولیکشن نیٹ ورک کی بہتری، آسا ن قرضوں تک رسائی، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی و فروغ سمیت جانوروں کے علاج معالجہ کی سہولیات کا فروغ ضروری ہے جس سے پاکستان میں دودھ کی پیداوارمیں خاطرخواہ اضافہ کے ساتھ دودھ کے ضیاع پر قابو پا کر دیہی معیشت کی ترقی اور استحکام میں مدد حاصل ہوگی۔