26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومتازہ ترینبھارت جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے، ہم نے ثابت...

بھارت جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے، ہم نے ثابت کیا کہ ہم بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، عطاء اللہ تارڑ

- Advertisement -

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیاء کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، پہلگام واقعہ کا ہم پر بے بنیاد الزام عائد کیا گیا، ہم نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تو بھارت نے اس کا جواب دینے کی بجائے جنگی ماحول میں اضافہ کیا، بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، پانی ہماری بقاء ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بیانیہ اور سفارتی محاذ پر کامیابی اور امن کی خواہش رکھنے کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ ہم بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیر اہتمام جنوبی ایشیاء میں قیام امن پر پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج کی اس اہم نشست میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے۔ اس مکالمے کے اہتمام پر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور بیکن ہائوس سینٹر فار پالیسی اینڈ ریسرچ کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کا تعلق ہے، پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح، مستقل اور غیر مبہم رہا ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس نے ہمیشہ اس خطے میں استحکام، مفاہمت اور مکالمے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ اس خطے میں جو بگاڑ ہم دیکھ رہے ہیں وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور انتہاء پسندی کے ساتھ براہ راست تناسب رکھتا ہے۔ ہندوتوا نظریئے نے جس طرح مقبولیت حاصل کی ہے اور جس انداز میں اس کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ اس خطے کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور یہ ثابت بھی کیا ہے کہ اگر پاکستان پر کوئی بلا اشتعال اور بلا جواز جنگ مسلط کی گئی تو ہمارے پاس اس کا موثر جواب دینے کی صلاحیت اور استعداد موجود ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں اور بھارت اس میں بڑی حد تک ملوث ہے جو ہمارے صوبوں میں بدامنی اور امن و امان کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، اس جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا ہے، کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف اتنی بھاری قیمت ادا کی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی زمین پر دہشت گردی کو روکا جو باقی دنیا کے لئے خطرہ بن سکتی تھی۔ ہمارے بچوں، عوام، پولیس، فوج اور اداروں کی قربانیاں صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ دنیا کی سلامتی کیلئے ہیں، اگر پاکستان نے یہ قربانیاں نہ دی ہوتیں تو وہ دہشت گرد جنہیں ہم نے روکا آج دنیا کے بڑے شہروں میں دندناتے پھر رہے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستان پہلگام واقعہ کا ذمہ دار ہے تو ہم نے اپنا موقف پیش کیا کہ ایک ایسا ملک جو خود آج بھی انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں متاثر ہے وہ کیسے ایسے اقدامات کی پشت پناہی کر سکتا ہے؟ ہم روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک واقعہ پیش آیا اور انہوں نے بے بنیاد الزامات لگانا شروع کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلگام واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تو بھارت نے اس کا جواب دینے کی بجائے جنگی جنون اور جنگی ماحول میں اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی اور دوست ممالک اس سارے بحران میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے، ہمیں سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل رہی، ہم نے دیکھا کہ ہمارے بیانیہ کی بنیاد پر بھارت میں سوالات اٹھے اور یہ سوالات آج بھی اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کبھی بھی اس قدر کمزور پوزیشن پر نہیں تھا جتنا کہ وہ اب ہے کیونکہ بھارت کی سول سوسائٹی، میڈیا، دانشور طبقہ اور اپوزیشن سب اس کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ بغیر کسی تحقیقات کے صرف ایک واقعہ کی بنیاد پر انہوں نے جارحیت کا راستہ اپنایا اور پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ا

نہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے فوری بعد میں صحافیوں کے ایک گروپ کو کشمیر کے علاقے بیلا نور شاہ لے کر گیا جہاں بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گردوں کے کیمپ ہیں اور ہم نے انہیں دکھایا کہ وہاں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ ہمارے ساتھ بین الاقوامی میڈیا کے دوست بھی تھے جنہوں نے دکھایا کہ وہ ایک پرامن علاقہ ہے ،الزامات اسی منصوبے کا حصہ تھے کہ صحافیوں کو مریدکے اور بہاولپور لے جانے سے روکا جائے تاکہ یہ تاثر زائل نہ ہو کہ وہاں دہشت گردی کے کیمپ ہیں اور جس دن ہمیں سفر کرنا تھا اس سے ایک رات پہلے بھارت نے یہ حملے کئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بیانیہ کے محاذ اور سفارتی محاذ پر کامیابی اور امن کی خواہش رکھنے کے باوجود ہم نے یہ ثابت کیا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا، ہماری مسلح افواج اور بہادر سپاہیوں کی جانب سے جو ردعمل دیا گیا اس نے بھارت کو ہماری عسکری طاقت کا اندازہ کرا دیا کہ ہم بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ سے پہلے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سوچ تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی امن کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو وہ ہمیشہ کسی بین الاقوامی معاہدے میں مداخلت کرنے کا سوچتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عالمی معاہدے کو یکطرفہ طور پر دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر معطل کر دیا جائے یا معطل رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہی سوچ تھی کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے درست وقت پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور یہ واضح پیغام دیا کہ پانی ہماری بقاء ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پانی کے بہائو کو روکنے یا متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یہ واضح اور دوٹوک پیغام تھا، یہ قدرتی وسیلہ ہمارے 24 کروڑ عوام کا حق ہے، اس کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کئی محاذ کھول دیئے کیونکہ اس ”ابھرتے بھارت“ کے جھوٹے تصور پر وہ خود یقین کر بیٹھے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور نہایت کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا اور جب اسے قانونی، سفارتی، عسکری اور بیانیہ کی سطح پر پرکھا گیا تو یہ مکمل طور پر ناکام ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد کے منظر نامے کو دیکھا جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ امن باہمی احترام اور تمام تنازعات بشمول کشمیر کے حل پر مبنی ہونا چاہئے۔ اس سارے منظر نامے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر دوبارہ اجاگر ہوا ہے اور مختلف مواقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت معصوم کشمیریوں کے حقوق غصب نہیں کر سکتا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام لازمی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس خطے میں امن کے لئے پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، پاکستان آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور اس حالیہ کشیدگی نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ہم ایک قوم کے طور پر نہ صرف بلا اشتعال جارحیت کا جواب دے سکتے ہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی ہمارے پاس اپنی بات منوانے کی صلاحیت اور مہارت موجود ہے۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں