اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وزارت ہاؤسنگ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی رینٹل سیلنگ میں اضافے کی سمری فنانس ڈویژن کو ارسال کردی۔سمری میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کی روشنی میں کرائے کی موجودہ حد کے نرخوں پر نظر ثانی کی سفارش کی گئی ہےاور کہاگیا ہے کہ گزشتہ چار برس سے رینٹل سیلنگ کی مد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران مکان …
وزارت ہاؤسنگ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی رینٹل سیلنگ میں اضافے کی سمری فنانس ڈویژن کو ارسال کردی،آخری نظر ثانی 2021میں کی گئی تھی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وزارت ہاؤسنگ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی رینٹل سیلنگ میں اضافے کی سمری فنانس ڈویژن کو ارسال کردی۔سمری میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کی روشنی میں کرائے کی موجودہ حد کے نرخوں پر نظر ثانی کی سفارش کی گئی ہےاور کہاگیا ہے کہ گزشتہ چار برس سے رینٹل سیلنگ کی مد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران مکان کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس ضمن میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے وفاقی ملازمین کے لیے رینٹل سیلنگ میں اضافے کی سمری باضابطہ طور پر فنانس ڈویژن کو بھجوا دی ہے۔پیر کو اے پی پی کو انٹرویو میں وزارت ہائوسنگ کے حکام نے تصدیق کی کہ وزارت ہاؤسنگ نے تقریباً تین ہفتے قبل رینٹل سیلنگ میں اضافے کی سمری فنانس ڈویژن کو منظوری کے لیے بھیجی تھی تاہم ابھی وزارت خزانہ سے جواب موصول ہونا باقی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ ہاؤسنگ سے متعلق تمام معاملات میں وفاقی ملازمین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت عام طور پر ہر تین سال بعدوفاقی سرکاری ملازمین کی رینٹل سیلنگ کی حد کا جائزہ لیتی ہے۔
اس ضمن میں آخری نظر ثانی 2021 میں کی گئی تھی، جس کا مطلب ہے کہ اب چار سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران بڑے شہروں میں مکانات کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ملازمین پر اضافی مالی دباؤ پڑا ہے جو پہلے ہی معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہیں۔








