تل ابیب ۔18اگست (اے پی پی):اسرائیل کے شہر تل ابیب کے ہوسٹجز سکوائر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی جنگ شروع ہو نے کے بعد یہ اسرائیلی حکومت کے خلاف ہونےوالا اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ …
اسرائیل میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افراد کی شرکت
تل ابیب ۔18اگست (اے پی پی):اسرائیل کے شہر تل ابیب کے ہوسٹجز سکوائر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی جنگ شروع ہو نے کے بعد یہ اسرائیلی حکومت کے خلاف ہونےوالا اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔ مظاہرے کے شرکا نے تل ابیب میں بڑی سڑکیں اور نجی کاروباری ادار ے بند کر دیے ۔اسرائیل کے کئی بڑے شہروں میں بھی اس موقع پر ریلیاں نکالی گئیں۔ لوگوں نے حکومتی وزرا کے گھروں کے باہر احتجاج بھی کیا۔منتظمین کا کہنا تھا کہ پورے دن میں ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔تل ابیب کے ہوسٹجز سکوائر پر مرکزی ریلی کے آغاز پر ایک اسرائیلی یرغمالی متان زنگاؤکر کا ایک نیا وڈیو کلپ جاری کیا گیا۔
وڈیو میں متان زنگاؤکر اپنے عزیزوں سے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مجھے آپ کی یاد آتی ہے، خدا کی مرضی، ہم سب سے جلد ملیں گے۔ اور جیسے تم جانتے ہو ہمارے لئے آواز بلند کرو۔ متان زنگاؤکر کے ایک عزیز نے اس مظاہرے سے خطاب میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے حکومت کے طرز عمل پر تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے انتہائی منصفانہ جنگ کو ایک فضول جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر نیتن یاہو کوئی معاہدہ چاہتے ہیں تو وہ ایک جامع تجویز کو میز پر رکھیں اور اس سے اتفاق کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ محض جھوٹ بول رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جو لوگ دشمن کو شکست دیئے بغیر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ اصل میں اسرائیل کے دشمن کو مضبوط کر رہے ہیں۔
اسرائیلی کابینہ کے رکن اتمار بن گویر نے احتجاجی مظاہروں کو سیاسی چال قرار دیا۔مظاہر ین کی طرف سے اس موقع پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیاگیا۔









