پاکستان نے گرین پاکستان پروگرام کے تحت شجرکاری کا 68 فیصد ہدف حاصل کر لیا

اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):پاکستان نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے "اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام" کے تحت شجرکاری کے ہدف کا 68 فیصد کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنا، جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا اور ماحولیاتی نظام کو بحال کرنا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی نے صوبائی حکومتوں کے تعاون …

اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):پاکستان نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے "اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام” کے تحت شجرکاری کے ہدف کا 68 فیصد کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنا، جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا اور ماحولیاتی نظام کو بحال کرنا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 2019 سے دسمبر 2024 تک 2.22974 ارب پودے لگائے جبکہ 2028 تک مجموعی ہدف 3.29 ارب پودے لگانے کا ہے۔صوبہ سندھ سب سے نمایاں رہا جس نے 856.01 ملین پودے لگا کر اپنے مقررہ ہدف کا 85 فیصد حاصل کیا۔

خیبرپختونخوا (کے پی) نے 713.25 ملین پودے لگائے، جبکہ پنجاب نے 364.79 ملین پودے لگا کر اپنے ہدف کا 77 فیصد مکمل کیا۔ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں 177.05 ملین اور گلگت بلتستان (جی بی) میں 94.10 ملین پودے لگائے گئے۔ بلوچستان میں اس عرصے کے دوران 24.55 ملین پودے لگائے گئے۔پروگرام کی سالانہ پیش رفت کی تفصیل کے مطابق 2019 میں 492.03 ملین، 2020 میں 595.37 ملین، 2021 میں 766.50 ملین، 2022 میں 233.41 ملین اور 2023 میں 125.99 ملین پودے لگائے گئے

۔وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 11,000 ہیکٹر جنگلاتی رقبہ جنگلاتی آگ، ماحولیاتی تبدیلی اور زمین کے استعمال کی تبدیلی کے باعث کھو دیتا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے شجرکاری مہم کے ساتھ کئی ساختی اور پالیسی اقدامات بھی کیے ہیں۔غیر قانونی لکڑی کی کٹائی اور صوبوں کے درمیان لکڑی کی ترسیل کو روکنے کے لیے ایک بین الصوبائی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی اپنی نشستوں میں جنگلات سے متعلق اہم مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور متعلقہ صوبوں کو سفارشات دیتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق، وزارت نے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور جی بی کے ساتھ مل کر جنگلاتی آگ کے انتظام کے لیے معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کیے ہیں۔

جنگلاتی آگ کی مانیٹرنگ کا ڈیٹا قومی سطح پر باقاعدگی سے اکٹھا اور جائزہ لیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کی دو وادیوں میں جنگلاتی آگ کے لیے ایک ابتدائی وارننگ سسٹم کا پروٹوٹائپ نصب کیا گیا ہے جو فی الحال جانچ کے مرحلے میں ہے۔مزید برآں، وفاقی فاریسٹری بورڈ کو بھی دوبارہ فعال کیا گیا ہے تاکہ جنگلات سے متعلق مسائل پر بات کی جا سکے، جن میں جنگلات کی کٹائی اور جنگلاتی و درختوں کے رقبے میں اضافہ شامل ہے، جو کہ نیشنل فاریسٹ پالیسی 2017 کے مطابق ہے۔

مجموعی طور پر، صوبائی حکومتوں نے بھی کچھ قوانین، پالیسیوں اور قواعد میں ترامیم کی ہیں جن میں پنجاب فاریسٹری پالیسی 2019، سندھ ایس ایف ایم پالیسی 2023 (ترمیم شدہ)، کے پی فاریسٹ آرڈیننس 2002، کے پی پروٹیکٹڈ فاریسٹ مینجمنٹ رولز 2005، بلوچستان فاریسٹ ایکٹ 2022، گلگت بلتستان فاریسٹ ایکٹ 2019، جی بی فاریسٹ فورس رولز 2020، جی بی وائلڈ لائف بایو ڈائیورسٹی ایریاز ایکٹ 2021 اور آزاد جموں و کشمیر فاریسٹ ریگولیشنز (ترمیمی) ایکٹ 2017شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل سے وسیع پیمانے پر مینگروز کی بحالی کے باعث پاکستان میں مینگروز کے جنگلات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے پاکستان خطے کا واحد ملک بن گیا ہے جہاں مینگروز کے جنگلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

 

مزید خبریں