لاہور۔24اگست (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ ملی بگ کے پیس نظر تدارک کیا جانا ضروری ہے کیونکہ غفلت کی صورت میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ترجمان نے بتایا ہے کہ ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں۔ کیڑے کے جسم سے لیسدار مادہ خارج ہوتا رہتاہے جِس پر بعد میں سیاہ پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے۔
سورج کی روشنی پتوں تک اچھی طرح سے نہیں پہنچ سکتی۔پودے کا خوراک بنانے کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔بڑھوتری رک جاتی ہے اور ٹینڈے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ٹینڈے دیر سے کھلتے ہیں اور پیداوار بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے جس سے سیاہ پھپھوندی کی وجہ سے روئی کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔یہ کیڑا کپاس کے علاوہ سبزیوں خاص طور پر بھنڈی توری،بینگن،ٹماٹر،کدو،پھولدار پودوں اور بہت سی جڑی بوٹیوں سمیت 100سے زیادہ پودوں پر ریکارڈ کیاجا چکا ہے۔
کپاس کی ملی بگ تیز ہوا، پانی، حملہ شدہ نرسری کے پودوں اورجڑی بوٹیوں سمیت کھیتوں میں کا م کرنے والے مزدورں کے کپڑوں اور جسم کے سا تھ لگ کر بڑی تیزی سے پھیلتی ہے علاوہ ازیں حملہ شدہ پودوں پر موجود چیونٹیاں جو ملی بگ کے جسم سے نکلنے والے لیس دار مادہ پر آتی ہیں ملی بگ کو بڑی تیزی سے پھیلانے کا با عث بنتی ہیں۔اس کیڑے کے تدارک کے لیے کھیتوں،کھالوں اور وٹوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں۔
کپاس کی فصل کا شروع ہی سے بغور معائنہ کرتے رہیں کیونکہ اِس کے بچے بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔پھلدار اور آرائشی پودوں کی وقت پر تراش خراش کریں اور ملی بگ سے متاثرہ جڑی بوٹیوں پر سپرے کریں اور اکٹھا کر کے زمین میں دبا دیں۔کھیتوں میں کام کرنے والے افراد متاثرہ حصوں سے دوسرے کھیتوں میں بار بار آنے جانے سے پر ہیز کریں۔ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ ملی بگ کا حملہ چند پودوں سے شروع ہو تا ہے اس لئے متاثرہ پودوں کا تعین کر کے ان پر ہفتہ میں دو بار سپرے کریں۔
متاثرہ کھیت میں پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں۔کاشتکار مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زرعی زہرکی فی ایکڑمقدار کو کم ازکم 120 لٹرپانی میں ملا کر متاثرہ پودوں پر اوپر سے نیچے تک اچھی طرح سپرے کریں۔ ایک ہی زہر کو بار بار سپرے نہ کریں۔حملہ کے شروع میں کنٹرول زیادہ موثر ہوتا ہے۔
شروع میں حملہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ایسی صورت میں سپرے متاثرہ پودوں کے علاوہ اِس کے ارد گرد کے پودوں پر بھی ضرور کریں۔بوم سے سپرے زیادہ موثر نہیں ہو تا۔ہا تھ یا پاور سے چلنے والے نیپ سیک سپرئیر ز استعمال کریں۔ملی بگ کے موثر تدارک کے لئے زہر تبدیل کر کے سپرے کا عمل 4 سے5 بار دن میں دہرائیں۔