اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے پی ٹی آئی کو مذاکرات میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے چیلنجز سے نمٹنے کے عمل کو سراہا ہے۔ اتوار کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں قیصر احمد شیخ نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے ملک کے استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بامعنی بات چیت میں حصہ لے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اتحادی جماعتوں خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ وژن پیچیدہ سیاسی مسائل کو حل کرنے میں موثر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اجتماعی نقطہ نظر قومی خدشات کو دور کرنے اور جاری سیاسی تعطل پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔قیصر احمد شیخ نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ متحد ہ وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ قوم کی عظیم تر بھلائی کے لیے بات چیت اور تعاون کو ترجیح دیں۔
ایک سوال کے جواب میں قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پی پی پی نے پہلے پی ٹی آئی کو تعاون کی تجویز دی تھی لیکن اب پی ٹی آئی کے انا پر مبنی ردعمل کی وجہ سے اس پیشکش پر افسوس ہے، پی ٹی آئی کا رویہ جمہوری اصولوں سے متصادم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن باہمی افہام و تفہیم سے کام کر رہے ہیں۔ضمنی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اتحادی جماعتوں کی حیثیت سے آگے بڑھنے کا اجتماعی فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی حکمت عملی باہمی افہام و تفہیم اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ اہداف پر مبنی ہوگی۔جب قیصر احمد شیخ سے صوبائی معاملات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے پچاس فیصد لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ میں ذاتی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کی ضروریات کو پورا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔