ڈھاکہ ۔25اگست (اے پی پی):پاکستان کے وزیر خارجہ کا 13 سال بعد بنگلہ دیش کی حکومت کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورہ کے دوران بنگلہ دیش کی قیادت اور اعلی حکام کیساتھ انتہائی مفید بات چیت اور ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں ممالک کے مابین چھ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ۔اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈھاکہ میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے نے بنگلہ دیش کے مشیر برائے امورِ خارجہ محمد توحید حسین اور چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی۔
انہوں نے مشیر برائے تجارت شیخ بشیر الدین سمیت اقتصادی، مالیاتی اور تجارتی امور کے ذمہ دار اعلیٰ بنگلہ دیشی حکام ،بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے تین الگ الگ وفود سے بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے معاہدات اور مفاہمت کی یادداشتِوں پر دستخط کیے گئے جن میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے ،تجارت سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام سمیت اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (ائی ایس ایس آئی) اور بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز(بی آئی آئی ایس ایس) کے مابین تعاون کے فروغ کے مفاہمت کی یادداشتِوں پر دستخط کیے گئے ۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کی فارن سروس اکیڈمیز ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان(اے پی پی ) اور بنگلہ دیش سانگباد سانستھا کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے ثقافتی وفود کے تبادلوں کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے "پاکستان اور بنگلہ دیش نالج کوریڈور” کے آغاز کا اعلان کیا جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف دیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کو تربیتی کورسز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کر دی گئی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بنگلہ دیشی قیادت سے ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں جن میں باہمی روابط کو ازسرنو فعال بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے امورِ خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن میں اعلیٰ سطحی تبادلے، تجارت و معیشت میں تعاون، عوامی روابط، ثقافتی تبادلے، تعلیم اور استعدادِ کار میں اضافہ، انسانی ہمدردی کے امور اور کھیل شامل تھے۔
علاقائی اور بین الاقوامی معاملات خصوصاً غزہ میں انسانی المیے، روہنگیا مسئلہ اور سارک کی بحالی پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں جاری مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے باقاعدہ ادارہ جاتی مکالمے، زیرِ التوا معاہدات اور یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے سمیت تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، تربیت اور روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
معروف پاکستانی فنکاروں کی ڈھاکہ میں پرفارمنس اور دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے باہمی دوروں کو سراہا گیا۔نائب وزیر اعظم نے گزشتہ سال احتجاج میں شدید زخمی ہونے والے طلبہ کی بحالی میں مدد کی پیش کش بھی کی ۔چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کے دوران پرانے تعلقات کی بحالی، نوجوانوں کے باہمی روابط کے فروغ، روابط کے نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال اور علاقائی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے میزبانی پر چیف ایڈوائزر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنما چونکہ بیماری کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں اس لیے انہوں نے ان کی جلد صحت یابی اور خیریت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اپنی تمام ملاقاتوں میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی بھرپور خواہش کا اظہار کیا جو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہوں۔ انہوں نے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔