24.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومتجارتی خبریںپاکستان رائس روڈ شو 2025 کا دوسرا مرحلہ آئیوری کوسٹ میں شروع

پاکستان رائس روڈ شو 2025 کا دوسرا مرحلہ آئیوری کوسٹ میں شروع

- Advertisement -

آبدجان، آئیوری کوسٹ ۔29اگست (اے پی پی):گھانا کے شہر اَکرا میں پاکستان رائس روڈ شو 2025 کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے جمعہ کو آبدجان میں اس اہم دو روزہ ایونٹ کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق نووٹیل پلیٹو ہوٹل میں منعقدہ اس تقریب میں چاول برآمد کرنے والی پاکستان کی 28 نمایاں کمپنیوں نے اپنے اعلیٰ معیار کے باسمتی اور سستے رائس کی نمائش آئیوری کوسٹ کے درآمد کنندگان اور خریداروں کے سامنے کی۔

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے شرکاء سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ روڈ شوز صرف تجارتی سودوں تک محدود نہیں بلکہ پائیدار شراکت داری قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا چاول برآمد کنندہ ہے جو سالانہ 90 لاکھ میٹرک ٹن پیدا کرتا ہے، اور اپنی مسلسل سپلائی، مسابقتی قیمتوں اور اعلیٰ معیار کی بدولت مغربی افریقہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

- Advertisement -

وزیرِ تجارت نے مزید کہا کہ پاکستان کے چاول کی برآمدات 2023-24 میں 4 ارب امریکی ڈالر سے زائد رہیں اور یہ 100 سے زیادہ ممالک کو بھیجے گئے، جو پاکستان کی قابلِ اعتماد شراکت داری کا ثبوت ہے۔پاکستان کے سفیر برائے آئیوری کوسٹ محمود اختر محمود نے کہا کہ پاکستان کا سفارتخانہ برآمد کنندگان اور آئیوری کوسٹ کے تاجروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کی چاول کی تجارت میں 8 فیصد حصہ رکھتا ہے اور براؤن باسمتی چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ 3.35 ملین ہیکٹر رقبے پر چاول کاشت کرتا ہے اور 60 لاکھ میٹرک ٹن برآمدی صلاحیت رکھتا ہے جو گھانا، آئیوری کوسٹ اور سینیگال کی مجموعی ضروریات کو با آسانی پورا کر سکتا ہے۔ ٹی ڈی اے پی کے ڈائریکٹر جنرل ایگرو اینڈ فوڈ اور پاکستانی وفد کے سربراہ اطہر حسین کھوکھر نے پاکستان کی مکمل رائس ویلیو چین پیش کی جس میں کاشت سے برآمد تک کے مراحل شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے پاس کلائمیٹ ریزیلیئنٹ اقسام اور مضبوط سپلائی چین ہے، جس کے بنیادی پیداواری علاقے سندھ اور پنجاب ہیں، جو سال بھر میں مسلسل پیداوار کو یقینی بناتے ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (REAP) کے نمائندے حسیب علی خان اور داؤد علی مہکری نے پاکستان کی سالانہ 45 لاکھ میٹرک ٹن باسمتی اور 50 لاکھ میٹرک ٹن نان-باسمتی پیداوار پر مبنی متنوع چاول پورٹ فولیو پر جامع پریزنٹیشن دی۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی مسابقتی قیمتیں بھارت، تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے روایتی سپلائرز کے مقابلے میں نمایاں ہیں جبکہ سپلائی چین کی مضبوطی اور فوڈ سیفٹی معیارات پر عمل درآمد پاکستان کو ایک معتبر شراکت دار بناتا ہے۔روڈ شو کے دوران بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی ) سیشنز رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے پاکستانی برآمد کنندگان کو براہِ راست آئیوری کوسٹ کے درآمد کنندگان تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ فوری تجارتی تعلقات قائم کیے جا سکیں اور طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد ڈالی جا سکے۔

آبدجان مرحلے کے بعد پاکستان رائس روڈ شو 2025 کا آخری مرحلہ ڈاکار، سینیگال میں ہوگا، جس کے ساتھ یہ مغربی افریقہ کا تاریخی تجارتی مشن مکمل ہو جائے گا۔ یہ روڈ شو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی ) کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے جو پاکستانی چاول برآمد کنندگان اور مغربی افریقہ کے درآمد کنندگان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور پائیدار تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے جامع پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں