27.9 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںکے آئی آئی آر کے زیراہتمام ’’تنازعات کی رپورٹنگ: بہترین طریقے، اخلاقی...

کے آئی آئی آر کے زیراہتمام ’’تنازعات کی رپورٹنگ: بہترین طریقے، اخلاقی معیارات اور نئے چیلنجز‘‘ کے عنوان سے ورکشاپ

- Advertisement -

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) نے یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ہو کے جے اے) کے اشتراک سے ’تنازعات کی رپورٹنگ: بہترین طریقے، اخلاقی معیارات اور نئے چیلنجز‘‘ کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کے آئی آئی آر الطاف حسین وانی نے کشمیر سے متعلق رپورٹنگ کی تاثیر بڑھانے کے لیے صحافیوں کے درمیان مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا بیانیہ سچائی پر مبنی ہے، جو بھارتی حکام کی طرف سے پھیلائی گئی غلط معلومات کے بالکل برعکس ہے، انہوں نے کہانی سنانے کے ایسے طریقوں پر زور دیا جو عالمی سطح پر اجاگر ہوں اور بھارت کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں۔

انہوں نے ماحول پر تنازع کے اثرات جیسے وسیع تر مسائل پر رپورٹنگ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور محققین اور صحافیوں دونوں پر زور دیا کہ وہ نئے طریقوں کو دریافت کریں جو بین الاقوامی توجہ اپنا سکیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر پر باہر سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی مہارتوں، تجربے اور وسائل کو یکجا کرتے ہوئے ایک متحد اور موثر انداز اپنائیں تاکہ خطے کی حقیقی داستان دنیا کو دکھائی جا سکے، جو سخت پابندیوں اور فوجی محاصرے کا شکار ہے۔

- Advertisement -

یو کے جے اے کے صدر ڈاکٹر محمد اشرف وانی نے ورکشاپ سے خطاب میں امن کی تعمیر کی طرف رخ کرنے والی تنازعات کی رپورٹنگ کی تبدیلی کی صلاحیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے، تنازعات کی صحافت کا زیادہ تر رجحان جنگ کو ہوا دینے کی بجائے امن اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی طرف رہا ہے۔ انہوں نے اخلاقی اور حل پر مرکوز رپورٹنگ کی طرف تبدیلی کا مطالبہ کیا۔یو کے جے اے کے سینئر نائب صدر شبیر ڈار نے مقبوضہ کشمیر سے تصدیق شدہ معلومات جمع کرنے کے لیے ایک مختص میڈیا ڈیٹا بینک قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ذخیرہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو زمینی حقائق کی عکاسی کرنے والے بیانیے کو پھیلانے میں مدد دے گا۔ یو کے جے اے کے جنرل سیکرٹری نعیم الاسد نے ہندوستان کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران پاکستانی میڈیا کی قابل اعتماد اور بھرپور کوریج کی تعریف کی۔ انہوں نے اس کا موازنہ بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے ساتھ کیا جس سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور کہا کہ پاکستانی میڈیا کو اس کے متوازن اور قابل اعتماد رپورٹنگ کے لیے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

محمد اقبال بلوچ نے تنازعات کے دوران صحافیوں کی سچائی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری پر زور دیا، اور کہا کہ سچائی اکثر پہلا شہید بن جاتی ہے۔ سینئر صحافی ہلال احمد نے کہا کہ بھارت نے متنازعہ ریاست میں آزادی اظہار کو زبردستی دبایا ہے، خاص طور پر 2019ء کے بعد جب اس نے اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ زاہد منیر نے کشمیر کی جدوجہد کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار اور عوامی تاثر پر اس کے نمایاں اثرات پر روشنی ڈالی۔

دیگر ممتاز صحافیوں میں ظہور احمد، ذاکر حسین، خالد شبیر، شوکت علی ابوذر، بلال احمد، اور جاوید احمد شامل ہیں جنہوں نے مباحثوں میں حصہ لیا۔ورکشاپ کے اختتام پر صحافیوں، میڈیا اداروں اور محققین کے درمیان مسلسل تعاون کا مطالبہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اخلاقی، حقائق پر مبنی اور جدید رپورٹنگ کے ذریعے کشمیری جدوجہد بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی رہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں