24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںامریکا کو مچھلی اور اس کی مصنوعات کی برآمد میں چار سال...

امریکا کو مچھلی اور اس کی مصنوعات کی برآمد میں چار سال کی توسیع کا اختیار مل گیا،نئی تجارتی راہیں کھلیں گی، وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری

- Advertisement -

اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی برآمد میں مزید چار سال کی توسیع کا اختیار مل گیا ہے۔وزارت بحری امور کے مطابق ہفتے کو اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے سمندری غذا کے معیار کی بین الاقوامی شناخت کی عکاسی کرتا ہے اور شعبے کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا، توقع ہے کہ اس توسیع سے سمندری غذا کی عالمی منڈی میں ہماری پوزیشن کو تقویت ملے گی جس سے دنیا کے سب سے بڑے سمندری غذا کے درآمد کنندگان تک رسائی حاصل ہو گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکا کی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت غیر ملکی ماہی گیری کی فہرست میں شامل تمام پاکستانی ماہی گیروں کی مقابلہ کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ درجہ بندی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت سمندری جانوروں کو ماہی گیری کے دوران حادثاتی اموات اور شدید چوٹوں سے بچانے کے لیے امریکی معیار پر پوری اترتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی سمندری غذا عالمی مارکیٹ میں تقریباً 2 امریکی ڈالر فی کلوگرام کماتی ہے، تعمیل کی اس بین الاقوامی توثیق کے ساتھ قیمت میں اضافے کا امکان ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان کےلئے یورپ اور خلیج میں نئی ​​منڈیاں کھلیں گی۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال25- 2024 میں پاکستان نے 242,484 میٹرک ٹن مچھلی اور اس کی مصنوعات کی برآمدات سے 489.2 ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا اور اوسطاً 2 امریکی ڈالر فی کلوگرام کے حساب سے برآمد ات کیں جبکہ رواں مالی سا میں قومی برآمدات کا حجم سے تقریباً 600 ملین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منظوری امریکی منڈی میں پاکستان کی کروڑوں ڈالر کی سمندری خوراک کی برآمدات کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ذمہ دارانہ اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام کے لیے ملک کی ساکھ میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے سمندری جانوروں کی آبادی کے لیے حفاظتی اقدامات کو مسلسل مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع کی طویل مدتی صحت کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں