اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان میں سپیکٹرم روڈمیپ میں عالمی بہترین طریقہ ہائے کار سے استفادہ بے حد اہمیت کاحامل ہے، معیشت اور معاشرے کے لیے ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے سپیکٹرم کے عمل میں بروقت پیش رفت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں سپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس …
پاکستان میں سپیکٹرم روڈمیپ میں عالمی بہترین طریقہ ہائے کار سے استفادہ بے حد اہمیت کاحامل ہے، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا سپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان میں سپیکٹرم روڈمیپ میں عالمی بہترین طریقہ ہائے کار سے استفادہ بے حد اہمیت کاحامل ہے، معیشت اور معاشرے کے لیے ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے سپیکٹرم کے عمل میں بروقت پیش رفت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں سپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسفک جولیان گورمن، متعلقہ وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام اور بڑے موبائل آپریٹرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ٹیلی کام انڈسٹری اور جی ایس ایم اے کے شرکا نے پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو موثر سپیکٹرم پالیسی کے ذریعے آگے بڑھانے پر اپنی آراء پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سپیکٹرم کی دستیابی آئی ٹی اور ٹیلی کام خدمات کی ترقی، برآمدات کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل اپنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزیرخزانہ نے انڈسٹری اور جی ایس ایم اے کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سپیکٹرم روڈمیپ میں عالمی بہترین طریقہ کار سے استفادہ ضروری ہے۔ انہوں نے سپیکٹرم کے عمل میں بروقت پیش رفت پر زور دیا تاکہ معیشت اور معاشرے کے لیے ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وفاقی وزراء شزا فاطمہ خواجہ اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ حکومت ڈیجیٹل طور پرمربوط اورسب کیلئے جامع، سستی اور اعلیٰ معیار کی کنکٹویٹی فراہم کرنے میں پرعزم ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر جاز عامر ابراہیم نے کہا کہ سپیکٹرم ہر کال، ہر ادائیگی، ہر آن لائن کلاس روم کے پیچھے پوشیدہ بنیادی ڈھانچہ ہے۔ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو غیر مقفل کرنے کے لیے ہمیں قیمتوں کا تعین اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے نہ کہ ہچکچاہٹ پیداکرے۔ درست اصلاحات کے ساتھ، ہم تیز تر نیٹ ورکس، مضبوط برآمدات اور بامعنی ڈیجیٹل شمولیت فراہم کر سکتے ہیں۔








