قومی اسمبلی اور سینیٹ جمہوری طرز حکمرانی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پارلیمان عوام کے اعتماد اور خواہشات کی اصل عکاس ہوتی ہیں، پارلیمان صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ مکالمے، اتفاق رائے اور جمہوری اقدار کے فروغ کا سب سے اہم فورم ہیں، پارلیمانی سفارتکاری اب روایتی حکمت عملی کا ایک بنیادی جزو بن چکی ہے جو عوامی نمائندوں کے مابین بامعنی مکالمے …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پارلیمان عوام کے اعتماد اور خواہشات کی اصل عکاس ہوتی ہیں، پارلیمان صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ مکالمے، اتفاق رائے اور جمہوری اقدار کے فروغ کا سب سے اہم فورم ہیں، پارلیمانی سفارتکاری اب روایتی حکمت عملی کا ایک بنیادی جزو بن چکی ہے جو عوامی نمائندوں کے مابین بامعنی مکالمے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان خیالات کا اظہار بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی کرٹن ریزر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو 11-12 نومبر 2025ء کو سینیٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو پروقار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی اور پارلیمانی سفارتکاری کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دو ایوانی نظام عوامی خدمت میں مصروف عمل ہے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ جمہوری طرز حکمرانی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کی پارلیمان عالمی و علاقائی سطح پر موثر کردار ادا کر رہی ہے اور انٹر پارلیمنٹری یونین کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کی پارلیمانی یونین میں بھی بھرپور شرکت کر رہی ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے چھ ملکی سپیکرز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس علاقائی تعاون کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوئی جس میں افغانستان، روس، چین، ایران اور ترکیہ کے سپیکرز نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور عوامی روابط کو فروغ دینا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) قانون سازی اور عوامی شمولیت کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے تاہم غلط معلومات اور فیک نیوز جیسے عناصر اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں، اس تناظر میں پالیسی سازوں کو مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سپیکرز اور پریذائیڈنگ آفیسرز کا کردار تنازعات کے حل اور اتفاق رائے کے قیام میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور مستحکم جمہوری ادارے ہی عوام کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب عوام کے جائز مطالبات کو مانا جائے اور تحفظات کو دور کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پرامن مذاکرات اور عالمی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے اس موقع پر فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کا پائیدار حل صرف اور صرف مکالمے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری اتفاق رائے اور عالمی امن کے فروغ کا ایک موثر ذریعہ ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس امن، ترقی اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک نہایت اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے مکالمہ اور تعاون ناگزیر ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں منعقد ہونے والی بین الپارلمانی سپیکرز کانفرنس کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔