2030ء تک توانائی مکس میں 60 فیصد قابل تجدید ذرائع کا حصہ پاکستان کا ہدف ہے، وفاقی وزیر توانائی

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ 2030ء تک توانائی مکس میں 60 فیصد قابل تجدید ذرائع کا حصہ پاکستان کا ہدف ہے، پاکستان میں ہوا، ہائیڈرو اور شمسی توانائی کے وافر وسائل کو بھرپور طور پر بروئے کار لا رہے ہیں،سی ای سی ای سی او خطے کے لیے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا مرکز ثابت ہوگا۔ان خیالات کا اظہار …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ 2030ء تک توانائی مکس میں 60 فیصد قابل تجدید ذرائع کا حصہ پاکستان کا ہدف ہے، پاکستان میں ہوا، ہائیڈرو اور شمسی توانائی کے وافر وسائل کو بھرپور طور پر بروئے کار لا رہے ہیں،سی ای سی ای سی او خطے کے لیے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا مرکز ثابت ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ای سی او کلین انرجی سینٹر (سی ای سی ای سی او) کے بورڈ آف گورنرز کے افتتاحی اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں سولر انقلاب جاری ہے، گھروں اور کاروبار کیلئے 5.8 گیگاواٹ شمسی کیپیسٹی نیٹ میٹرنگ سے شامل ہے، قابل تجدید توانائی ذرائع کا پاکستان کی گرڈ کیپیسٹی میں تقریباََ 42 فیصد سے زیادہ کا حصہ ہے، گزشتہ برس نصف سے زائد بجلی صاف توانائی ذرائع سے حاصل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ای سی او کلین انرجی سینٹر کے عملی آغاز کا خیر مقدم کرتا ہے،ای سی او کلین انرجی سینٹر کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ہوا، ہائیڈرو اور شمسی توانائی کے وافر وسائل کو بھرپور طور پر بروئے کار لا رہے ہیں،پاکستان کے تقریباً تمام نئے توانائی منصوبے جدید صاف توانائی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں،نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک بنایا۔ اویس لغاری نے کہا کہ دیہی علاقوں میں مائیکرو گرڈز اور غیرمرکزی نظام کو فروغ دے رہے ہیں،پاکستان اپنے تجربات اور کامیابیاں رکن ممالک سے شیئر کرے گا،سی ای سی ای سی او خطے کے لیے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا مرکز ثابت ہوگا، یہ ادارہ علاقائی حکمت عملی کو قابل عمل منصوبوں میں ڈھالے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ سرحد پار توانائی کے تبادلے، مشترکہ انفراسٹرکچر اور مربوط سبز گرڈ کو فروغ دینے والا پلیٹ فارم ثابت ہو گا، مشترکہ کاوشوں سے خطے کے لیے محفوظ اور پائیدار توانائی مستقبل ممکن ہے۔