پاکستان میں پہلی مرتبہ بدھ مت کلچرل اینڈ انفارمیشن سینٹر قائم کیا جائے گا، اورنگزیب خان کھچی

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں پہلی مرتبہ بدھ مت کلچرل اینڈ انفارمیشن سینٹر لوک ورثہ میں قائم کیا جائے گا۔ یہ تاریخی اقدام بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی سیاحت اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینٹر پاکستان کی کثیرالثقافتی شناخت اور عالمی سیاحوں کے …

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں پہلی مرتبہ بدھ مت کلچرل اینڈ انفارمیشن سینٹر لوک ورثہ میں قائم کیا جائے گا۔ یہ تاریخی اقدام بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی سیاحت اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینٹر پاکستان کی کثیرالثقافتی شناخت اور عالمی سیاحوں کے لیے خیر مقدمی رویے کا مظہر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بدھ مت کے پیروکار بھی ہمارے ملک آئیں اور یہاں کے مقدس مقامات کا دورہ کریں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ سینٹر عبادت اور مراقبے کے لیے مخصوص مقامات، بدھ مت ثقافت سے متعلق معلوماتی مواد اور تاریخی پس منظر فراہم کرے گا۔ یہ اقدام قومی ثقافتی پالیسی کا حصہ ہے جو جلد وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر لانچ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی ہماری ثقافتی شناخت کے تحفظ، فنکاروں اور ادیبوں کو بااختیار بنانے اور پاکستان کا پُرامن و تخلیقی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کا قومی مشن ہے۔

اورنگزیب کھچی نے بتایا کہ اس پالیسی میں چاروں صوبوں کی تجاویز کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے مکمل طور پر جامع بنایا جا سکے۔ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان مہرگڑھ، ہڑپہ، موئن جو دڑو اور ٹیکسلا جیسی ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یونیسکو کو چار نئے ورثہ مقامات کی شمولیت کے لیے درخواستیں دی ہیں، کیونکہ 1998 کے بعد سے کوئی نیا مقام شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ شاہ اللہ دتہ کے غاروں سمیت کئی بدھ مت آثار کو جدید سہولیات کے ساتھ عالمی معیار کے سیاحتی مقامات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ثقافتی سفارت کاری کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے اب تک 86 ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور جلد یہ تعداد 125 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس سال کا لوک میلہ 12 غیر ملکی ممالک کے ثقافتی اسٹالز کی میزبانی کرے گا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان کی پہلی ڈگری دینے والی فنونِ لطیفہ کی درسگاہ رواں سال کے آخر تک قائم کی جائے گی، جبکہ لوک ورثہ میں فنون کی کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل لائبریری، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور قومی زبان ترقیاتی ادارے کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے آثار قدیمہ پر دستاویزی فلمیں بھی تیار کی جا رہی ہیں تاکہ عالمی سطح پر ہمارے ثقافتی خزانے کو اجاگر کیا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بدھ مت کلچرل سینٹر کے قیام اور قومی ثقافتی پالیسی کے نفاذ کے ساتھ پاکستان ثقافتی سفارت کاری، ورثہ کے تحفظ اور اپنے مثبت تشخص کے فروغ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

 

مزید خبریں