اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ حقیقی امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنا ہے، جس میں سمندروں اور ان میں پائی جانے والی حیات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی صحت براہِ …
یومِ امن پر سمندر اور سمندری حیات کا تحفظ ضروری ہے، جنید انور چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ حقیقی امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنا ہے، جس میں سمندروں اور ان میں پائی جانے والی حیات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی صحت براہِ راست عوام کی زندگی اور معیشت سے جڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے سمندر صحت مند نہیں ہوں گے تو نہ صرف سمندری مخلوق بلکہ ساحلی کمیونٹیز بھی متاثر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ نایاب کچھوے، ضرورت سے زیادہ شکار کا شکار ہونے والی شارک مچھلیاں، چرنا آئی لینڈ کے آس پاس کے نازک کورل ریف اور ساحلی علاقوں کے مینگرووز خطرے میں ہیں۔ کچھوے غیر قانونی شکار، آلودگی اور رہائش گاہوں کی تباہی سے متاثر ہو رہے ہیں، جب کہ شارک مچھلیوں سمیت وہیل شارک کے تحفظ سے سمندری نظام کا توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرجان (کورل) نہ صرف سمندری زندگی کے لیے گھر کا کام دیتے ہیں بلکہ طوفانوں کے دوران ساحلی علاقوں کو بھی بچاتے ہیں، جب کہ مینگرووز قدرتی حفاظتی دیوار، کاربن ذخیرہ کرنے کا ذریعہ اور مچھلیوں کے لیے افزائش گاہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جنید چوہدری نے کہا کہ حکومت ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں محفوظ سمندری علاقوں میں اضافہ، مینگرووز کی بحالی، ماہی گیری کے قوانین کا سخت نفاذ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
انہوں نے عوام، پالیسی سازوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور سمندری حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سمندر کاربن جذب کرتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرتے ہیں، سمندری زندگی کا تحفظ دراصل ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ماحول کے تحفظ کے لیے تعاون پر زور دیا اور کہا کہ ایک پرامن دنیا وہ ہے جہاں شارک آزاد ہوں، کچھوے محفوظ انڈے دیں، کورل چمکیں، مینگرووز مضبوط کھڑے ہوں اور ہمارے سمندر آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ بنے رہیں۔








