آستانہ۔21ستمبر (اے پی پی):عالمی و روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی 8ویں کانگریس کے تحت "عصری بین الثقافتی و بین المذاہب مکالمہ" کے موضوع پر ایک ماہرین کا گول میز اجلاس آستانہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مذہبی سفارت کاری کے ذریعے عالمی چیلنجز سے نمٹنے پر سائنسی انداز میں گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ممتاز ماہرین، مذہبی رہنماؤں، جامعات کے ریکٹرز اور وائس چانسلرز نے شرکت کی، جن میں …
صدر اسلام یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا آستانہ کانگریس سے خطاب

مزید خبریں
آستانہ۔21ستمبر (اے پی پی):عالمی و روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی 8ویں کانگریس کے تحت "عصری بین الثقافتی و بین المذاہب مکالمہ” کے موضوع پر ایک ماہرین کا گول میز اجلاس آستانہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مذہبی سفارت کاری کے ذریعے عالمی چیلنجز سے نمٹنے پر سائنسی انداز میں گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ممتاز ماہرین، مذہبی رہنماؤں، جامعات کے ریکٹرز اور وائس چانسلرز نے شرکت کی، جن میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد بھی شامل تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے "دنیا کو محفوظ تر بنانے میں مذہبی رہنماؤں کے کردار” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین امن کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ مذہبی عقائد، اقدار، مذہبی رہنما اور مذہبی تنظیمیں معاشروں میں امن کے فروغ میں زبردست صلاحیت رکھتی ہیں جو بالآخر عالمی امن میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تنازعات کے حل کی حکمت عملیوں میں مذہبی پہلو کو تعمیری آلہ کار کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نظریاتی بنیاد کی روشنی میں پاکستان میں مسلم مذہبی قیادت نے معاشرتی امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی بیانیہ ‘پیغامِ پاکستان’ ترتیب دیا ہے۔ اسے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی نے تیار اور مربوط کیا ہے اور یہ پاکستان کا تسلیم شدہ قومی بیانیہ ہے۔
پیغامِ پاکستان واضح طور پر فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم، اور نظریات کو جبر کے ذریعے مسلط کرنے کو اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی اور زمین میں فساد (فساد فی الارض) قرار دیتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ بیانیہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے اور ان کے جان، مال، عزت اور قانونی حقوق کو آئین و قانون کی روشنی میں مسلم شہریوں کے برابر قرار دیتا ہے۔اجلاس میں ان کا خطاب شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا اور پاکستان کے پائیدار امن کے لیے عزم کو اجاگر کرنے والا قرار دیا گیا۔








