پاکستان-ازبکستان مشترکہ ثقافتی تاریخ کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد، بھارت میں مسلم ثقافتی ورثہ شدید مشکلات کا شکار، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو تعاون بڑھانا ہو گا، مقررین

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات محض سفارتی یا سیاسی نوعیت تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد صدیوں پر محیط تہذیبی تسلسل، علمی تبادلے اور صوفیانہ افکار کی مشترکہ روایت پر قائم ہے۔ اسی سلسلہ میں پاکستان میں ازبکستان کے سفارتخانے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے باہمی تعاون سے "پاکستان-ازبکستان مشترکہ ثقافتی تاریخ" کے موضوع پر پیر کو یہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس …

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات محض سفارتی یا سیاسی نوعیت تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد صدیوں پر محیط تہذیبی تسلسل، علمی تبادلے اور صوفیانہ افکار کی مشترکہ روایت پر قائم ہے۔

اسی سلسلہ میں پاکستان میں ازبکستان کے سفارتخانے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے باہمی تعاون سے "پاکستان-ازبکستان مشترکہ ثقافتی تاریخ” کے موضوع پر پیر کو یہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان اسی دن قائم ہو گیا تھا جب قطب الدین ایبک نے برصغیر میں مسلم ریاست کی بنیاد رکھی تھی، پاکستان تیموری، مغل اور لودھی سلطنت کا تسلسل ہے جس کی علمی اور ثقافتی بنیادیں افغان اور ترک ثقافت سے ملتی ہیں۔

برصغیر کی ثقافتی روایات کی جڑیں وسط ایشیائی ممالک سے منسلک ہیں جسے بھارتی ریاست اور ہندوتوا کا شدت پسند نظریہ صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست اور ہندوتوا کی پالیسی مسلم بالخصوص مغل دور میں رکھے گئے نام اور بسائے گئے شہروں کی تاریخ مسخ کر رہی ہے اور مغل ثقافت کو ختم کرنے کے در پر ہے جس کی واضح مثال بھارت میں مغل دور کی عمارات و یادگاروں کے نام تبدیل کرنا اور نصاب کی کتابوں سے تیموری مغل تاریخ کو حذف کرنا ہے۔

اس کا مقصد مسلم ثقافت جس کی جڑیں جو سنٹرل ایشیا سے ملتی ہیں ان کو ختم کرنا ہے، اگر آج ہم نے اقدامات نہ کئے تو بابری مسجد کی طرح دیگر اہم مذہبی اور تاریخی مقامات ہندوتوا شدت پسندانہ ذہنیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ سنٹرل ایشیا کو اپنے اس تاریخی ورثہ اور ثقافت کو بچانے کے لئے مشترکہ کاوش کرنی چاہیئے۔

مقررین میں موسس اعلی مسلم انسٹیٹیوٹ سلطان محمد علی، سابق صدر آزاد جموں و کشمیرسردار مسعود خان، سابق چیف آف جوائنٹس کمیٹی جنرل (ر) احسان الحق،ممبر آف سینیٹ ازبکستان اینڈ ڈائریکٹر آف انسٹیٹیوٹ آف ہسٹری اینڈ سائنسزڈاکٹر عظمت زیو، چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی، پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیاو، پریزیڈنٹ سنٹر فار سائوتھ ایشیا اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیزمیجر جنرل (ر) خالد جعفری، سابق ڈپٹی سفیر سرفراز احمد سپرا، ڈین فیکیلٹی آف سوشل سائنسز قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، ڈائریکٹر نیکٹا ڈاکٹر عظمی سراج،سائنٹیفک سکیورٹی انسٹیٹیوٹ آف ہسٹری اینڈ سائنس ازبکستان ڈاکٹر اودل زرپو، ریسرچ فیلو انسٹیٹیوٹ آف ہسٹری اینڈ سائنسز بوتیر ژلدشف،ڈاکٹر سائرہ علوی اور ڈاکٹر شجاعت ہاشمی شامل تھے۔

مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان اور ازبکستان تاریخی طور پر ایک دوسرے کے فطری شراکت دار ہیں، یہی شراکت داری سٹریٹجک اور دفاعی محاذ پر بھی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک تسلسل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں تاکہ خطے میں علاقائی امن کو فروغ ملے۔

مقررین نے کہا کہ مشترکہ ثقافتی روایات کا عکس ہمیں پاکستان کے تعلیمی اداروں، ریاستی سطح اور افواج کی سطح پہ بھی نظر آتا ہے جہاں پاکستان اپنے میزائلوں کا نام بابر، غوری اور غزنوی سے موسوم کرتا ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں مختلف کمپنیز کو بابر، غزنوی اور اورنگزیب جیسے نام اسی سلسلہ کو فروغ دیتے ہوئے رکھے گئے ہیں۔ مزید برآں پاکستان اپنے مشاق طیاروں کی ٹریننگ بھی ازبکستان کو دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی تعلقات کے ذریعے عوامی روابط، تعلیمی اشتراک اور سیاحت کو مزید فروغ دینا چاہئے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تاریخی مخطوطات کی حفاظت، تراجم کے منصوبے اور مشترکہ ثقافتی تقریبات کا انعقاد دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لا سکتا ہے۔

مقررین نے تجویز پیش کی کہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کو مل کر ثقافتی کوریڈور قائم کرنا چاہئے اور فن تعمیر کی بنیاد پہ سفارتکاری کو فروغ دینا چاہئے۔

مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ثقافتی رشتوں کی مضبوطی نہ صرف ماضی کی یادوں کو تازہ کرے گی بلکہ دونوں ممالک کے لیے ایک روشن مستقبل کی راہ بھی ہموار کرے گی۔ کانفرنس میں وقفہ سوال و جواب بھی ہوا اور مقررین کو کانفرنس کی یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ ملک کی مختلف جامعات اور تھنک ٹینکس کے محققین اور ماہرین نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

مزید خبریں