اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ جہازوں میں موجود خطرناک مواد کی فہرست کے ماحولیاتی طور پر محفوظ انتظام سے متعلق بل 2025 کے تحت قائم کی جانے والی اتھارٹی کی تشکیل کو واضح طور پر بیان کرے۔ کمیٹی نے بل کی شق 3 میں دی گئی موجودہ اتھارٹی کی وضاحت کو مبہم قرار دیتے ہوئے …
رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ جہازوں میں موجود خطرناک مواد کی فہرست کے ماحولیاتی طور پر محفوظ انتظام سے متعلق بل 2025 کے تحت قائم کی جانے والی اتھارٹی کی تشکیل کو واضح طور پر بیان کرے۔ کمیٹی نے بل کی شق 3 میں دی گئی موجودہ اتھارٹی کی وضاحت کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی ساخت اور افعال کو مناسب انداز میں متعین کرنا ضروری ہے۔
کمیٹی کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ بل کی شق وار جانچ پڑتال کرتے ہوئے کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بین الاقوامی کنونشن کی توثیق ایک لازمی امر ہے اور مقامی قوانین کو بین الاقوامی وعدوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ صوبوں کو ماحولیات کے تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کے لیے آگاہ کرے۔
کمیٹی نے وزارت سے اس بل پر صوبوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے ہونے والی مشاورت کا ریکارڈ بھی طلب کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس بل پر اگلے اجلاس میں مزید غور کیا جائے گا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی نے کے پی ٹی کی زمین پر تجاوزات کے خلاف جاری مہم کو جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف کمشنر کراچی کی زیر نگرانی قائم کمیٹی میں سندھ رینجرز کے نمائندے کو شامل کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تجاوز شدہ زمین سے متعلق عدالتی مقدمات کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور جن مقدمات میں فریقین نے عدالت سے باہر تصفیے کی راہ اپنائی ہے، وہاں حکومت کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تصفیہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے کراچی پورٹ کی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک جام کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے کمیٹی نے کمشنر کراچی کو طلب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے زیر غور تجاویز کی رپورٹ بھی طلب کی۔ بحث کے دوران کمیٹی نے اس بات کا نوٹس لیا کہ وزارت اور اس کے ادارے کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل نہیں کر رہے۔
کمیٹی نے رائے دی کہ پارلیمانی فورمز سے معلومات چھپانا سخت خلاف ورزی ہے اور ایسی صورت میں کمیٹی کے پاس پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ریاستی اداروں کے گورننگ بورڈز خود مختار ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنے لیے ناجائز مالی فوائد سے گریز کرنا چاہیے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری، اراکین قومی اسمبلی احمد عتیق انور، رومینہ خورشید عالم، اسفنیار ایم بھنڈارا، سردار احمد نبیل گبول ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے جبکہ پولین بلوچ، شاکر بشیر اعوان، محمد عثمان بادینی اور حسن صابر نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔ وزارت کی نمائندگی سیکرٹری نے کی جبکہ اس سے منسلک اداروں کی نمائندگی چیئرمین کے پی ٹی، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے کی۔








