اقوام متحدہ کا جنگ بندی کے بعد غزہ میں انسانی امداد بڑھانے کا اعلان

اقوام متحدہ ۔10اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریس نےاعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد اقوام متحدہ مکمل تیاری کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار فوری حرکت کے لیے تیار ہیں۔ …

اقوام متحدہ ۔10اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریس نےاعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد اقوام متحدہ مکمل تیاری کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار فوری حرکت کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے پاس مہارت، ترسیل کے نیٹ ورک اور مقامی سطح پر مضبوط روابط موجود ہیں۔

خوراک، پانی، طبی امداد اور پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے وسائل موجود ہیں اور ہماری ٹیمیں الرٹ پر ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ محض گولہ باری کا رک جانا کافی نہیں بلکہ جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں انسانی امداد کے لیے مکمل، محفوظ اور مسلسل رسائی کی ضرورت ہے، بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا خاتمہ اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو ضروری ہے۔ انہو ں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو امدادی سرگرمیوں کے لیے مکمل فنڈنگ مہیا کرنی چاہیے تاکہ عوام کی بے پناہ ضروریات پوری کی جا سکیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسے ایک مستقل امن کی طرف بڑھنے کا ذریعہ بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی عمل کی بحالی کی ایک ایسی راہ ہموار کرنی چاہیے جو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، دو ریاستی حل اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن و استحکام کی طرف لے جائے۔انیونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو ایک "اہم سفارتی کامیابی” قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے قطر، مصر اور ترکی کی جانب سے معاہدے کی کامیاب ثالثی پر بھی ان کی تعریف کی۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہاکہ یہ معاہدہ سفارت کاری کی طاقت اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔