اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران نے جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے منگل کوبلتستان ڈویژن کا دورہ کیا۔اس موقع پر سینیٹر اسد قاسم کی زیرصدارت کمشنر کانفرنس ہال سکردو میں اجلاس منعقد ہوا۔سیکرٹری جنگلات نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ جی بی فاریسٹ ایکٹ 2019 کے تحت اب …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی امور کشمیر کا بلتستان ڈویژن کا دورہ،قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے متعلقہ محکموں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران نے جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے منگل کوبلتستان ڈویژن کا دورہ کیا۔اس موقع پر سینیٹر اسد قاسم کی زیرصدارت کمشنر کانفرنس ہال سکردو میں اجلاس منعقد ہوا۔سیکرٹری جنگلات نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ جی بی فاریسٹ ایکٹ 2019 کے تحت اب تک 1.1ملین مکعب فٹ سے زائد غیر قانونی لکڑی ضبط کی جا چکی ہے اور اس کے باقاعدہ استعمال کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
کمشنر بلتستان ڈویژن نے بتایا کہ 100 میگاواٹ شمسی توانائی اور 60 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبے متبادل توانائی کے ذرائع فراہم کر کے جنگلات پر دبائو کم کریں گے۔کمیٹی نے گلگت بلتستان (جی بی )حکومت کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنا فاریسٹ ورکنگ پلان کمیٹی کے ساتھ شیئر کرے اور جنگلات سے متعلق کسی بھی قانون سازی یا اقدامات بارے کمیٹی کو آگاہ رکھے۔ اراکین نے ایڈمنسٹریشن کمپلیکس میں پودے بھی لگائے۔
بعد ازاں کمیٹی نے جی ایل او ایف-II منصوبے اور ارلی وارننگ سسٹم (ای ڈبلیو ایس) کا بھی جائزہ لیا اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر زور دیا۔اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو، ناصر محمود، عطاء الحق، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ڈویلپمنٹ) سید وحید شاہ، جوائنٹ سیکرٹری امور کشمیر، ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ذاکر حسین، کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان، ڈپٹی کمشنر سکردو حمزہ مراد اور دیگر محکموں کےسربراہان نے شرکت کی۔








