تحقیقاتی ادارے ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت پر مبنی جامع تحقیقاتی رپورٹ’’طالبان 2.0: دی فائیو ایئر لیجر‘‘ جاری کر دی جس میں 15 اگست 2021 سے اب تک افغانستان میں طالبان حکومت کی کارکردگی کا سیاسی، سماجی، معاشی اور سکیورٹی حوالوں سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
طالبان 2.0: پانچ سالہ اقتدار ناکامیوں، بد عہدیوں اور خطرات کی داستان ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):تحقیقاتی ادارے ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت پر مبنی جامع تحقیقاتی رپورٹ’’طالبان 2.0: دی فائیو ایئر لیجر‘‘ جاری کر دی جس میں 15 اگست 2021 سے اب تک افغانستان میں طالبان حکومت کی کارکردگی کا سیاسی، سماجی، معاشی اور سکیورٹی حوالوں سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم 2020 کے دوحہ معاہدے کی تینوں بنیادی شرائط پر عمل درآمد میں یکسر ناکام رہی۔ معاہدے کے تحت رہا کیے گئے قریباً 5 ہزار طالبان قیدیوں کی بڑی تعداد فوراً جنگ میں شامل ہو گئی، افغان حکومت سے مذاکرات کے بجائے عسکری قبضہ کیا گیا اور افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیمیں اور تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو سر گرم ہیں۔ صرف کالعدم ٹی ٹی پی کی نفری 6 سے ساڑھے 6 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے جبکہ 2025 میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 300 سے زائد افغان شہری بھی ملوث پائے گئے۔
داعش خراسان اور القاعدہ سمیت دیگر تنظیمیں بھی افغان سرزمین کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ افغانستان میں خواتین کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے گئے، 11 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں اور سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح گھٹ کر 21 فیصد رہ گئی۔ ذرائع ابلاغ کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، 547 میں سے 219 میڈیا ادارے بند ہو چکے اور صحافیوں کی تعداد 11 ہزار 857 سے کم ہو کر محض 4 ہزار 759 رہ گئی، جس کے باعث عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں افغانستان 180 ممالک میں سے 175 ویں نمبر پر آگیا۔
رپورٹ کے مطابق افغان معیشت کو 2021 سے اب تک مجموعی طور پر 25 فیصد سکڑاؤ کا سامنا رہا ہے، جبکہ بچوں اور خواتین میں غذائی قلت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور قریباً 49 لاکھ افراد اس سے متاثر ہیں۔ طالبان رجیم کے اندر موجود مختلف دھڑے تجارت اور معدنی وسائل کی آمدن کی تقسیم پر باہم کشمکش کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دنیا میں صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
قطر میں مسلسل قیام اور بین الاقوامی میڈیا پر سرگرمی کے باوجود طالبان کی فکری اساس اور شدت پسندانہ نظریات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، اور رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی کے طالبان اور موجودہ حکومت کی سوچ میں کوئی بنیادی فرق موجود نہیں۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم پانچ سال گزرنے کے باوجود اپنی عوام اور عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور موجودہ صورتحال افغان عوام کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔








