محکمہ زراعت ملتان نے دھان کے تیلے کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری کر دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق دھان کا تیلہ ایک خطرناک کیڑا ہے جو جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت زیادہ پہنچاتا ہے۔ دھان کا تیلہ پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے کا رس چوستا ہے اورجب نیچے سے فصل سوکھ جاتی ہے تب اوپر پتوں اور مونجروں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ …
محکمہ زراعت ملتان نے دھان کے تیلے کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری کر دیں

مزید خبریں
ملتان۔ 17 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت ملتان نے دھان کے تیلے کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری کر دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق دھان کا تیلہ ایک خطرناک کیڑا ہے جو جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت زیادہ پہنچاتا ہے۔ دھان کا تیلہ پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے کا رس چوستا ہے اورجب نیچے سے فصل سوکھ جاتی ہے تب اوپر پتوں اور مونجروں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ تیلے کا حملہ عام طور پر کھیت میں ٹکڑیوں کی شکل میں شروع ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پودوں کے پتوں اور تنوں کا رس چوستے ہیں۔ متاثرہ پتے پہلے اور پھر بھورے ہو جاتے ہیں۔
شدید حملہ کی صورت میں پودے سوکھ کر سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ حملے کی اس نوعیت کو تیلے کا جھلساؤ کہتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں یہ کیڑا عموماً ستمبر کے دوسرے ہفتے میں فصل پر حملہ آور ہوتا ہے۔ دھان کی موٹی اقسام اس کا حملہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ دھان تیلے کے تدارک کیلئے کھیت کے اندر اور اطراف میں آگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں کیونکہ تیلہ ان پر پرورش پاتا ہے۔ دھان کے تیلے کو دستی جال سے اکٹھا کر کے تلف کریں۔ روشنی کے پھندے پروانوں کو تلف کرنے کیلئے رات کو روشنی کے پھندے لگائیں۔
کھیت میں مسلسل پانی کھڑا نہ رکھیں ں۔ دھان کے تیلے کے حملہ ہونے کی صورت میں فوری سوکا لگائیں۔اس کے علاوہ کاشتکارسایہ دار جگہوں پر دھان کاشت نہ کریں، نائٹروجن والی کھادوں کا غیر ضروری استعمال نہ کریں اور دھان کے تجویز کردہ تعداد سے زیادہ پودے نہ لگا ئیں۔ دھان کے تیلے کے کیمیائی تدارک کیلئے کاشتکار محکمہ زراعت کے مقامی ماہرین کے مشورہ سے زرعی زہروں کااستعمال کریں اوران زرعی زہروں کے سپرے سے قبل دھان کا وقفہ قبل ازبرداشت ضر وردھیان میں رکھیں۔







