اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کو رواں سال غیر متوقع طور پر شدید اور طویل سردیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، موسمی تبدیلی محض وقتی اثر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے موسمیاتی نظام کی بڑی وجہ ہے، موسمی شدت میں یہ اضافہ انسانی صحت، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے …
پاکستان کو رواں سال غیر متوقع طور پر شدید اور طویل سردیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، نعیم احمد سبحانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کو رواں سال غیر متوقع طور پر شدید اور طویل سردیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، موسمی تبدیلی محض وقتی اثر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے موسمیاتی نظام کی بڑی وجہ ہے، موسمی شدت میں یہ اضافہ انسانی صحت، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے ’’سیفٹی کنسلٹ ‘‘کے سی ای او نعیم احمد سبحانی کے مطابق سرد موسم کی شدت جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے وہیں وہ موجودہ نظامِ زندگی کو جھنجھوڑنے والی ایک وارننگ بھی ہے۔
ان کے مطابق برف جمی ہوئی پانی کی لائنیں، گیس کی قلت اور سانس کی بیماریاں ایسے مسائل ہیں جو ہر سال اس موسم میں شدت اختیار کر جاتے ہیں خاص طور پر جب تیاری مکمل نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ موسمِ سرما سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی سطح پر بروقت اقدامات کریں، بزرگ افراد اور بچوں کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ ان کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، گرم کپڑوں کا باقاعدہ استعمال، متوازن اور مقوی غذا، جیسے دودھ، آلو، گوشت، سبزیاں اور پھل قوتِ مدافعت کو بہتر بناتے ہیں۔
گھروں میں دروازوں اور کھڑکیوں پر پلاسٹک شیٹ لگا کر حرارت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے جبکہ پانی کی لائنوں کو فوم سے لپیٹنے سے وہ جمنے سے بچائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گیس ہیٹرز اور برقی آلات کا استعمال ہمیشہ احتیاط سے کرنا چاہئے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے،عمارتوں کی انسولیشن اور فائر سیفٹی سسٹم کی جانچ اس موسم میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل بھی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے، بغیر ضرورت کے کھلی جگہوں پر جانے یا کام کرنے سے گریز کیا جائے ، توانائی کے استعمال میں اعتدال سے کام لینا اور پائیدار طرزِ زندگی اپنانا نہ صرف موجودہ سردیوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے بلکہ طویل المدتی موسمیاتی بہتری کا راستہ بھی یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف گرمی کے اضافے کا نام نہیں بلکہ یہ غیر یقینی موسموں، شدید موسمی اثرات اور غیر متوقع ماحولیاتی دباؤ کا ایک پیچیدہ نظام ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہوشیاری، شعور اور پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔سیفٹی کنسلٹ کی جانب سے عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سردیوں کی شدت کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں، اگر ہم بروقت اور دانشمندانہ اقدامات کریں تو سردی کی لہر کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔








