راولپنڈی ۔26اکتوبر (اے پی پی):آزادکشمیر رجمنٹ کے بہادر سپوت نائیک سیف علی جنجوعہ شہید (ہلالِ کشمیر) کا 77 واں یوم شہادت اتوار کو منایا گیا۔ان کے یومِ شہادت پر مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا۔علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیاگیا۔اس موقع پر میجر جنرل توقیر عباس …
نائیک سیف علی جنجوعہ شہید (ہلالِ کشمیر/نشان حیدر) کا 77 واں یوم شہادت اتوار کو منایا گیا

مزید خبریں
راولپنڈی ۔26اکتوبر (اے پی پی):آزادکشمیر رجمنٹ کے بہادر سپوت نائیک سیف علی جنجوعہ شہید (ہلالِ کشمیر) کا 77 واں یوم شہادت اتوار کو منایا گیا۔ان کے یومِ شہادت پر مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا۔علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیاگیا۔اس موقع پر میجر جنرل توقیر عباس نے شہید کی قبر پر پھول رکھے ۔علماء کرام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا لہو ہم پر قرض ہے۔
زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں،شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں،نائیک سیف علی جنجوعہ شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا۔تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے بہادر سپوت نائیک سیف علی جنجوعہ نے 1948کی پاک -بھارت جنگ کے دوران بہادری سے پیر کلیوہ پوسٹ کا دفاع کیا، شہید سیف علی جنجوعہ 23 اپریل 1922 کو کھنڈہار تحصیل مہندر پونچھ، آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے،1947میں آپ پاکستان واپس آئے اور سردار فتح محمد کریلوی کی ”حیدری فورس”میں شامل ہوگئے ،یکم جنوری 1948 میں حیدری فورس کو ”شیرِ ریاستی بٹالین”کا نام دیا گیا،سیف علی جنجوعہ کو ان کی قابلیت کے پیشِ نظر نائیک کا عہدہ دیا گیا اور بدھا کھنہ کے مقام پر دشمن کے خلاف دفاع وطن کے لئے تعینات کیا گیا،بھارتی فوج سے پیر کلیوہ محاذ پر کئی دن سے جھڑپیں جاری تھیں،18 آزاد کشمیر رجمنٹ پہلے ہی حملے میں دریائے پونچھ عبور کر کے پیش قدمی کرتے ہوے پیر کلیوہ پہاڑی پر واقع پوسٹ پر قبضہ کر چکی تھی۔
اس پوسٹ پر دوبارہ قبضے کے لیے دشمن بار بار حملہ آورہوا مگر ناکام رہا۔26 اکتوبر 1948کو دشمن نے اپنے ایک انفنٹری بریگیڈ کے ذریعے، جسے بھاری توپ خانے اور ٹینکوں کے علاوہ ائیر فورس کی مدد بھی حاصل تھی، پیر کلیوہ پوسٹ پر قبضہ کے لیے حملہ کر دیا۔پوسٹ پر گھمسان کی جنگ سارا دن جاری رہی ۔فضائی بمباری اور شیلنگ کے سبب نائیک سیف علی جنجوعہ کی دونوں ٹانگیں شدید زخمی ہو گئیں مگر آپ نے اپنی مشین گن سے فائرنگ جاری رکھی۔زخموں سے چور ہونے کے باوجود آپ نے اپنی پلاٹون کی راہنمائی جاری رکھی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔نائیک سیف علی نے پھر بھی ہمت نہ ہاری،اسی زخمی حالت میں لاشوں اور زخمیوں تک پہنچے اور ان کا اسلحہ اکٹھا کر کے اپنے زندہ بچ جانے والے ساتھیوں تک پہنچایا۔
دشمن کے تازہ حملے کا سامنا کرنے کی غرض سے آپ نے باقی ساتھیوں کو پھر سے منظم کیا۔نائیک سیف علی جنجوعہ کو یہ احساس تھا کہ آپ اور ساتھیوں نے آخری گولی نہیں بلکہ آخری سانس تک لڑنا ہے۔آپ مٹھی بھر مجاہدین کے ساتھ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔بھارتی توپوں کی جانب سے گولہ باری میں شدت آ گئی تھی۔اس مقابلے کے دوران دُشمن کاگولہ آپ کی چیک پوسٹ کے قریب آگرا اور آپ شدید زخمی ہو گئے۔پاک فوج کے اس بہادر سپوت نے مادرِ وطن کے دِفاع کو یقینی بناتے ہوئے،26اکتوبر 1948ء کوجامِ شہادت نوش کیا۔دُشمن اس پوسٹ پر قبضہ کرنے میں ناکام رہااور بھاری جانی نقصان اُٹھاکر پسپا ہوا۔14 مارچ 1949 کوحکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی ڈیفنس کونسل نے بعدازشہادت آپ کو آزادجموں و کشمیر کے سب سے بڑےعسکری اعزاز”ہلال کشمیر“ دینے کا اعلان کیا۔بعدازاں حکومت پاکستان نے 1995 میں ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دے دیا۔








