اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائڈ) نے اسلامی ریلیف پاکستان کے تعاون سے ایک بصیرت افروز "تالانوا ڈائیلاگ" کا انعقاد کیاجس کا عنوان تھا "تعاون پر مبنی ماحولیاتی اقدامات برائے ایک مضبوط پاکستان"۔اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ اس تقریب میں ماہرین، پالیسی سازوں اور محققین نے شرکت کی تاکہ ماحولیاتی لچک، موافقت اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر جامع و شمولیتی مکالمے کو …
پائڈ کے زیر اہتمام اسلامی ریلیف پاکستان کے تعاون سے "تعاون پر مبنی ماحولیاتی اقدامات برائے ایک مضبوط پاکستان”پرڈائیلاگ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائڈ) نے اسلامی ریلیف پاکستان کے تعاون سے ایک بصیرت افروز "تالانوا ڈائیلاگ” کا انعقاد کیاجس کا عنوان تھا "تعاون پر مبنی ماحولیاتی اقدامات برائے ایک مضبوط پاکستان”۔اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ اس تقریب میں ماہرین، پالیسی سازوں اور محققین نے شرکت کی تاکہ ماحولیاتی لچک، موافقت اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر جامع و شمولیتی مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کی نظامت پائڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم الٰہی نے کی، جنہوں نے تالانوا ڈائیلاگ کے فریم ورک کا تعارف کرایا جو کہ ایک شراکتی اور کہانی پر مبنی طریقۂ کار ہےجو شفافیت، شمولیت اور اعتماد کو ماحولیاتی گفتگو کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔مکالمہ تین رہنما سوالات کے گرد گھوما: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اور ہم وہاں کیسے پہنچیں گے؟۔اسلامی ریلیف پاکستان کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر رضا ناریجو نے اپنے افتتاحی خطاب میں تنظیم کی پانی و خوراک کے تحفظ، صنفی شمولیت اور ماحولیاتی موافقت کے حوالے سے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تالنوا جیسے مکالمے پاکستان کے قومی ماحولیاتی عزم کی تکمیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور COP30 سے قبل ہونے والی پالیسی گفتگو کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔رضا ناریجو نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح کے نقطۂ نظر مؤثر ماحولیاتی پالیسیوں کے لیے ناگزیر ہیں کیونکہ زمینی حقائق اکثر پالیسی سطح کی مفروضات سے مختلف ہوتے ہیں۔
شرکاء نے پاکستان کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی منظرنامے پر اپنے تجربات اور مشاہدات پیش کیےجن میں غیر متوقع موسمی تبدیلیاں، بار بار آنے والے سیلاب، مٹی کی زرخیزی میں کمی، فضائی آلودگی اور شہری پھیلاؤ جیسے مسائل شامل تھے۔زرعی پیداوار اور غذائیت کے معیار میں کمی پر تشویش ظاہر کی گئی، جو ماحولیاتی انحطاط، غذائی عدم تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔شرکاء نے نشاندہی کی کہ کاشتکاروں میں موسمیاتی موافقت سے متعلق آگاہی کی کمی اور آلودگی کے کنٹرول پر کمزور عملدرآمد لچکدار اقدامات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی موافقت کو تعلیم، رویوں میں تبدیلی اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں شمولیت کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔پائڈ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور رجسٹرار ڈاکٹر ناصر اقبال نے کہا کہ پالیسی سازی کا ڈھانچہ خود ماحولیاتی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہےاس لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے جوماحولیاتی و معاشی اہداف کو یکجا کرے۔انہوں نے ماحولیاتی انشورنس میکانزمز کی عدم موجودگی پر بھی توجہ دلائی جو سیلاب، خشک سالی اور فصلوں کی ناکامی سے متاثرہ کمزور گھرانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
دیگر مقررین جن میں ڈاکٹر ذوالفقار، ڈاکٹر عثمان، اور ڈاکٹر فیصل شامل تھےنے ماحولیاتی دباؤ کے سماجی و نفسیاتی پہلوؤں پر بات کی جن میں جبری ہجرت، سماجی شناخت کا نقصان اور آفات کے بعد کمزوریوں میں اضافہ شامل ہیں۔انہوں نے روایتی ماحولیاتی علم کی بحالی اور شہری شمولیت کے فروغ پر زور دیا تاکہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی آگاہی کے خلا کو پر کیا جا سکے۔
مکالمے کے دوران کئی قابلِ عمل تجاویز سامنے آئیں جن میں جنگلات کی بحالی، صنعتی و معدنی سرگرمیوں پر سخت نگرانی، شہری علاقوں میں سبزہ کاری اور چھتوں پر باغبانی کے فروغ، اور نئے ہاؤسنگ اسکیموں میں لازمی واٹر ٹریٹمنٹ سسٹمز کی تنصیب شامل تھیں، تاکہ زیرِ زمین پانی کے آلودہ ہونے سے بچا جا سکے۔
شرکاء نے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، کمیونٹی سطح پر ماحولیاتی آگاہی مہمات کے فروغ اور مقامی طور پر آگاہ، فطرت پر مبنی حل اپنانے پر زور دیا جو کمیونٹی کی ضروریات و ترجیحات کی عکاسی کریں۔ڈاکٹر خرم الٰہی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پائڈ کے اس عزم کو دہرایا کہ ادارہ ماحولیاتی تحقیق اور پالیسی میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کا سفر ماحولیاتی لچک کی جانب آگاہی، رویوں میں تبدیلی اور مشترکہ ذمہ داری سے ہی ممکن ہے۔








