بیرون ملک مقیم پاکستانی اب “پاک آئی ڈی” ایپ کے ذریعے گاڑیاں رجسٹر اور ٹرانسفر کروا سکیں گے

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک نئی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے وہ اب گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے مکمل کر سکیں گے۔اے پی پی سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستانی …

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک نئی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے وہ اب گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے مکمل کر سکیں گے۔اے پی پی سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستانی سفارتخانوں کے چکر لگانے یا وکالت نامے بھیجنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے وہ پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ وہاں اپنی بایومیٹرکس ریکارڈ کرائیں، اور ہم گاڑی کے ٹرانسفر کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایپ کے ذریعے بایومیٹرکس جمع کرانا شناخت کے ثبوت کے طور پر کام کرے گا، جس سے علیحدہ ٹرانسفر آرڈر (TO) فارم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، انہوں نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں سے کہا کہ مناسب دستاویزات کا خیال رکھیں۔ بلال اعظم نے کہا کہ جب بھی آپ کوئی گاڑی بیچیں، تو براہ کرم اپنے ٹرانسفر لیٹر پر دستخط کریں اور خریدار کو حوالے کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بایومیٹرک تصدیق اور دستخط شدہ ٹرانسفر لیٹر قانونی تقاضے ہیں۔ ایک اور اہم اعلان میں بلال اعظم نے اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کے بقایا جات کی وصولی کے لیے کارروائی کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کئی گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل اور منسوخ کر دی گئی ہے، جس سے قبل عوامی نوٹس اور اخباری اشتہارات جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 1980 سے 2000 تک کے بقایا جات کے حامل افراد کو نوٹس جاری کیے اور قانونی عمل کے بعد ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔ بلال اعظم نے متاثرہ گاڑی مالکان کے لیے رجسٹریشن بحال کرنے کا عمل بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد ایکسائز کے ڈیجیٹل اصلاحات کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں اور غیر ملکی پاکستانیوں کے لیے سہولت، شفافیت اور افادیت میں اضافہ کرنا ہے۔