اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں چلنے والی ہر پانچ میں سے ایک بھاری ٹرانسپورٹ گاڑی قومی ماحولیاتی اخراج کے معیارات کے خلاف ورزی کرتی پائی گئی ہیں۔ یہ انکشاف وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ی کوآرڈینیشن کے زیرانتظام وفاقی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات یا پاکستان انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اسلام آباد کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہےجس میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، صنعتی سرگرمیوں …
اسلام آباد میں 20 فیصد بھاری گاڑیاں ماحولیاتی معیار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائی گئیں، پاک ای پی اے

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں چلنے والی ہر پانچ میں سے ایک بھاری ٹرانسپورٹ گاڑی قومی ماحولیاتی اخراج کے معیارات کے خلاف ورزی کرتی پائی گئی ہیں۔ یہ انکشاف وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ی کوآرڈینیشن کے زیرانتظام وفاقی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات یا پاکستان انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اسلام آباد کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہےجس میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ اسلام آباد میں فضائی آلودگی کی سنگینی کو بڑھا رہا ہے۔اتوار کو جاری رپورٹ کے مطابق ڈیزل پر چلنے والی پرانی بھاری گاڑیاں خاص طور پر وہ جو بھاری سامان یا مسافروں کی ترسیل میں استعمال ہوتی ہیں وہ فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
ان گاڑیوں سے خارج ہونے والا کالا دھواں، کاربن مونو آکسائیڈ اور شور نہ صرف فضا کو آلودہ کرتا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے نازیہ زیب علی کی ہدایت پر وفاقی ادارہ تحفظ محولیات یا ایجنسی نے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے تعاون سے 28 اور 30 اکتوبر کو خصوصی مہم چلائی۔ مہم کی نگرانی وفاقی ادارہ تحفظ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر(لیبارٹریز/معیارات) ڈاکٹر زاغم عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر (تحقیق و تفتیش) بن یامین نے کی۔ ٹیموں نے سیکٹر آئی-11 کے قریب منڈی مور اور سرینگر ہائی وے پر جی-14 کے قریب واقعہ پوائنٹس پر گاڑیوں کے دھوئیں اور شور کی سطح کی جانچ کی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سو بھاری گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے بیس فیصد گاڑیاں قومی ماحولیاتی معیار سے تجاوز کرتی پائی گئیں۔ ڈاکٹر زاغم عباس نے رپورٹ کے نتائج شیئر کرتے ہوئے کہا ہمارے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بھاری گاڑی کی آلودگی کی سطح قابلِ قبول حد سے زیادہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیزل گاڑیوں کی دیکھ بھال اور معائنے کے نظام کو مزید سخت کرنے کی فوری ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق بیس غیر معیاری گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ تین انتہائی آلودہ گاڑیاں قانونی کارروائی کے لیے بند کر دی گئیں۔
پاک ای پی اے نے متعلقہ مالکان کو ہدایت کی کہ وہ گاڑیوں کے انجنوں کی فوری مرمت، ٹوننگ اور اخراجی نظام کی درستگی کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے۔ایجنسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری و نجی اداروں کے زیر استعمال گاڑیوں کے لیے باقاعدہ دیکھ بھال کے پروگرام اور اندرونی آلودگی کے آڈٹ ناگزیر ہیں۔پاک ای پی اے نے اعادہ کیا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مسلسل نگرانی، سخت قانونی کارروائی اور عوامی آگاہی مہمات جاری رکھے گی تاکہ شہریوں کی صحت اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔








