فیصل آباد۔ 12 نومبر (اے پی پی):پاکستان میں کیلے کا زیرکاشت رقبہ 34830 ہیکٹرز اورپیداوار 154935 ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ۔ایگریکلچراینڈ فروٹ اکانومسٹ محمداسحاق نے بتایا ہے کہ کیلے کی موسہ کیوینڈیسی، بصرائی،چمپا،گروس بائیکل، موسیٰ سیپی اینٹم،ہیلٹا نامی اقسام کاشت کرکے شاندار پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیلے کی اعلیٰ اقسام ایسے گرم مرطوب علاقوں میں انتہائی کامیابی کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہیں جہاں کہر …
پاکستان میں کیلے کازیر کاشت رقبہ 34830 ہیکٹرز اور پیداوار 154935 ٹن سے تجاوز کر گئی

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 12 نومبر (اے پی پی):پاکستان میں کیلے کا زیرکاشت رقبہ 34830 ہیکٹرز اورپیداوار 154935 ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ۔ایگریکلچراینڈ فروٹ اکانومسٹ محمداسحاق نے بتایا ہے کہ کیلے کی موسہ کیوینڈیسی، بصرائی،چمپا،گروس بائیکل، موسیٰ سیپی اینٹم،ہیلٹا نامی اقسام کاشت کرکے شاندار پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیلے کی اعلیٰ اقسام ایسے گرم مرطوب علاقوں میں انتہائی کامیابی کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہیں جہاں کہر نہ پڑتا ہو اور پودے گرم لو سے بھی محفوظ رہتے ہوں۔
انہو ں نے کہاکہ جن علاقوں میں سالانہ ایک ہزار ملی لیٹر تک بارش ہو تی ہو، موسم سرمامیں درجہ حرارت 16سے 18 ڈگری اور موسم گرما میں 21 سے24ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتاہو وہاں کیلے کی شاندار پیداوار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ چونکہ کیلے کے پودے کی جڑیں کم گہرائی تک جاتی ہیں اس لئے اسے کافی پانی اور ذرخیز ایسی زمین درکارہوتی ہے جس میں پانی اچھی طرح جذب کرنے کی صلاحیت ہو۔ انہوں نے بتایاکہ کیلے کی افزائش رائزوم کے ٹکڑوں اور زیر بچوں سے کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ باغبان پودوں کا درمیانی فاصلہ 1.5سے 2.5 میٹر تک رکھیں اور فی ایکڑ پودوں کی تعداد 676سے764تک رکھی جائے۔انہوں نے بتایاکہ باغبان مزید رہنمائی کےلئے ماہرین زراعت کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔








