اقوام متحدہ ۔14نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین(یواین آر ڈبلیو اے ) کو اسرائیلی کوششوں کے باوجود تحفظ فراہم کرے اور اسے بلا رکاوٹ اپنے انسانی بنیادوں پر مبنی فرائض سرانجام دینے کے قابل بنائے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی (خصوصی سیاسی و غیر نوآبادیاتی امور) سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے …
پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی دباؤ کے مقابلے میں یواین آر ڈبلیو اے کے تحفظ کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین(یواین آر ڈبلیو اے ) کو اسرائیلی کوششوں کے باوجود تحفظ فراہم کرے اور اسے بلا رکاوٹ اپنے انسانی بنیادوں پر مبنی فرائض سرانجام دینے کے قابل بنائے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی (خصوصی سیاسی و غیر نوآبادیاتی امور) سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ دراصل فلسطینی پناہ گزینوں کو سہارا دینے والے آخری ڈھانچے کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے اس وقت اپنی تاریخ کے "سنگین ترین حملے” کا سامنا کر رہی ہے،اس کے مینڈیٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں اور اس کی بقا کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔پاکستانی سفیر نے کہاکہ گزشتہ سات دہائیوں سے انروا لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی کا سہارا رہی ہے، جو غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام میں تقسیم ہیں۔ یہ ادارہ اُن کے لیے تعلیم، صحت، ہنگامی امداد اور وقار کا ذریعہ ہے۔انہوں نے یواین آر ڈبلیو اے کو "امید کا مینار” قرار دیتے ہوئے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ یواین آر ڈبلیو اے کے خلاف اسرائیلی اقدامات فلسطینی شناخت کو مٹانے اور انہیں درکار انسانی امداد روکنے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی قانون سازجس میں یواین آر ڈبلیو اے کی سرگرمیوں پر پابندی، اس کی استثنیات کی منسوخی اور اسے “دہشتگرد تنظیم” قرار دینے کی کوششیں شامل ہیں،کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے واضح کہا کہ کسی رکن ملک کو جنرل اسمبلی کے قائم کردہ کسی اقوام متحدہ کے ادارے کو تحلیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ہم ان اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت، ریاست کے قیام اور یواین آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
عثمان جدون نے کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے کے مالی بحران کو سیاسی مقاصد کے تابع نہیں کیا جا سکتا ہے ۔دنیا ان پناہ گزینوں کو دوبارہ ناکام نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے کا کام صرف پناہ گزینوں کی مدد ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو انسانیت سوز بحران سے بچانے کا ذریعہ بھی ہے۔پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں اور مصر، قطر، ترکیہ اور امریکا کے کردار کو سراہا، جن کی کوششوں سے امریکی صدر کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت جنگ بندی طے پائی۔پاکستان نے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں مستقل جنگ بندی اور عادلانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی، جس کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق دارالحکومت القدس الشریف کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔








