غزہ میں بارش سے بے گھر خاندان متاثر، اقوامِ متحدہ کی ہنگامی امدادی سرگرمیاں تیز

اقوام متحدہ ۔15نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کی ہم آہنگی (او سی ایچ اے ) نے بتایا ہے کہ جمعے کو ہونے والی شدید بارشوں کے بعد غزہ میں ہزاروں بے گھر خاندانوں کے کیمپوں میں پانی بھر گیا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری شیلٹر سپورٹ فراہم کرنا شروع کر دیا ہے اور ریپڈ ریسپانس ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی …

اقوام متحدہ ۔15نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کی ہم آہنگی (او سی ایچ اے ) نے بتایا ہے کہ جمعے کو ہونے والی شدید بارشوں کے بعد غزہ میں ہزاروں بے گھر خاندانوں کے کیمپوں میں پانی بھر گیا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری شیلٹر سپورٹ فراہم کرنا شروع کر دیا ہے اور ریپڈ ریسپانس ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق بارشوں نے پوری غزہ پٹی میں لوگوں کے حالات کو شدید متاثر کیا، ذاتی سامان کو نقصان پہنچا اور ہزاروں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے دوچار ہو گئے، جس سے خصوصاً بزرگوں، معذوروں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے صحت اور تحفظ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

امدادی شراکت داروں نے بتایا کہ سیلاب سے تحفظ کے لیے جن آلات کی ضرورت ہے وہ غزہ میں دستیاب نہیں، جیسے پانی نکالنے کے آلات اور ملبہ صاف کرنے کا سامان۔ اوچا نے مزید کہا کہ لاکھوں ضروری شیلٹر آئٹمز اب بھی اردن، مصر اور اسرائیل میں پھنسے ہوئے ہیں اور غزہ میں داخلے کی منظوری کے منتظر ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی حکام نے امدادی شراکت داروں کی جانب سے اہم سامان لانے کی 23 درخواستیں مسترد کی ہیں، جن میں خیمے، سیلنگ و فریم کٹس، بستر، کچن سیٹس اور کمبل شامل تھے۔ بیشتر مسترد درخواستوں کی وجہ یہ بتائی گئی کہ درخواست دہندگان کو غزہ میں امداد پہنچانے کی اجازت نہیں۔

ادارے نے خبردار کیا کہ خراب رہائشی حالات سے لوگوں کا بارودی مواد کے خطرات سے سامنا بڑھ رہا ہے، خاص طور پر بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگ ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کرتے ہوئے زخمی ہوئے جبکہ کئی کو خیمے ان علاقوں کے قریب لگانے پڑ رہے ہیں جہاں غیر پھٹے بارودی مواد کی موجودگی کا شبہ ہے۔ادارے کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے بارودی مواد کی کارروائیوں میں مصروف شراکت دار 10 سے زائد زخمیوں کا اندراج کر چکے ہیں۔

غزہ کی محدود جغرافیائی وسعت ان خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ محفوظ علاقوں کا انتخاب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔جنگ بندی کے بعد سے امدادی ٹیمیں 70 سے زیادہ بارودی خطرات کے جائزے کر چکی ہیں، 32 بین الادارہ جاتی مشنوں کو تعاون فراہم کیا گیا ہے، اور 49,000 سے زائد افراد کو خطرات سے آگاہی کی تربیت دی گئی ہے۔یو این مائن ایکشن سروس کا کہنا ہے کہ وہ مزید مؤثر کام کر سکتی ہے، بشرطیکہ ٹیموں کو ڈیٹیکٹرز، پرزہ جات اور وہ آلات فراہم کیے جائیں جن کی مدد سے بارودی مواد کو محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکے۔

مزید خبریں