اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کے تحت قائم کی گئی قومی نگران کمیٹی برائے گندم کا پہلا اجلاس وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی اور علاقائی سیکرٹریز برائے خوراک و زراعت کے علاوہ متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں عبوری قومی گندم پالیسی …
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت قومی نگران کمیٹی برائے گندم کا اجلاس، عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کے نفاذ پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کے تحت قائم کی گئی قومی نگران کمیٹی برائے گندم کا پہلا اجلاس وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی اور علاقائی سیکرٹریز برائے خوراک و زراعت کے علاوہ متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کے مقاصد اور اس کے نفاذ کے فریم ورک پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں گندم کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے گندم کی کاشت میں اضافہ پر زور دیا۔ پالیسی کے مقاصد کے مطابق آئندہ آنے والی گندم کی فصل کی خریداری کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کا مقصد ریاست کے زیرِ اثر خریداری کے نظام سے مارکیٹ پر مبنی گندم کی معیشت کی طرف منتقلی، مارکیٹ کے مطابق اشاریاتی قیمتوں کے ذریعے قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانا اور غذائی تحفظ کے تحفظ کے لئے مناسب سٹریٹجک ذخائر کی تعمیر اور انتظام کرنا ہے۔
اس پالیسی کا مقصد گندم کی خریداری ، ذخیرہ اندوزی اور تجارت میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا، گندم کے انتظام سے منسلک مالی اور نیم مالی بوجھ میں کمی لانا اور پاکستان کی قومی گندم منڈی میں آزاد اور مسابقتی تجارت کو فروغ دینا بھی ہے۔ مزید برآں یہ پالیسی صوبوں کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق سماجی تحفظ کے نظام کے ڈیزائن میں لچک فراہم کرتی ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ گندم کے کاشتکاروں اور آٹے کے صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے گندم کی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ نئے کاروباری مواقع پیدا ہوں اور خصوصاً نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع میسر آئیں۔
وفاقی وزیر نے مزید زور دیا کہ تمام صوبائی حکومتیں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اپنی آبادی کی ضروریات کے مطابق سٹریٹجک گندم کے ذخائر برقرار رکھیں۔ وفاقی، صوبائی اور علاقائی سٹیک ہولڈرز نے کسانوں، صارفین اور قومی معیشت کے مفاد میں عبوری قومی گندم پالیسی 2025–26 کے مؤثر نفاذ کے لئے باہمی تعاون سے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔







