اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کے درمیان اصلاحات میں تیزی، ترقیاتی اور نجی شعبے کی ترقی کے لئے سٹریٹجک شراکت داری کی توثیق کر دی گئی ۔وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کے اعلیٰ سطحی وفد سے تفصیلی ملاقات کی۔ وفد کی قیادت اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور سینٹرل …
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی اے ڈی بی کے اعلیٰ سطحی وفد سے تفصیلی ملاقات ، پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان اصلاحات میں تیزی، ترقیاتی اور نجی شعبے کی ترقی کے لئے سٹریٹجک شراکت داری کی توثیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کے درمیان اصلاحات میں تیزی، ترقیاتی اور نجی شعبے کی ترقی کے لئے سٹریٹجک شراکت داری کی توثیق کر دی گئی ۔وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کے اعلیٰ سطحی وفد سے تفصیلی ملاقات کی۔ وفد کی قیادت اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور سینٹرل و ویسٹ ایشیا ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل گوتریرز کر رہی تھیں جبکہ اے ڈی بی کے مقامی دفتر کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
یہ ملاقات وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوئی جس میں سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے، ترقیاتی اثرات میں بہتری اور اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان کے لئے اے ڈی بی کی طویل المدتی اور بروقت معاونت پر دلی تشکر کا اظہار کیا بالخصوص بجٹ سپورٹ، ماحولیاتی تحفظ، سماجی شعبے کی ترقی اور ساختی اصلاحات کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی شراکت داری کو محض منظوریوں کی بجائے نتائج، اثرات اور کارکردگی کے اشاریوں سے مشروط ہونا چاہئے تاکہ حقیقی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے منصوبہ بندی، تیاری اور عملدرآمد میں بہتری کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر بالخصوص سماجی شعبوں اور ماحولیاتی منصوبوں میں ترقیاتی اثرات کو کمزور کرتی رہی ہے جس کا ازالہ ناگزیر ہے۔ملاقات میں آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی استحکام اور اصلاحاتی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگز، آئی ایم ایف کے کامیاب جائزے اور کلائمیٹ ریزیلینس فیسلٹی کی منظوری جیسے اقدامات، پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد کا مظہر ہیں۔
انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری، سرکاری اداروں (SOEs) کی اصلاح، نجکاری اور پبلک فنانشل مینجمنٹ میں اصلاحات کے لئے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو حالیہ پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک چھوٹے بینک کی نجکاری مکمل کی جا چکی ہے، سٹریٹجک ٹرانزیکشنز میں دوبارہ دلچسپی بڑھ رہی ہے اور توانائی شعبے کی تنظیمِ نو، بالخصوص ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب اور نمایاں نجکاری اقدامات اصلاحاتی عمل میں اعتماد اور رفتار پیدا کرنے کے لئے نہایت اہم ہیں۔
وزیر خزانہ نے برآمدات، خدمات خصوصاً آئی ٹی سروسز میں اضافے، ترسیلاتِ زر میں بہتری اور قابلِ انتظام کرنٹ اکاؤنٹ خسارے جیسے مثبت معاشی اشاریوں کا بھی ذکر کیا تاہم ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کو متوازن اور پائیدار بنیادوں پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے قلیل مدتی مزاحمت کے باوجود تجارتی آزادکاری اور مسابقت بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اے ڈی بی کی جانب سے ایما فین نے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مضبوط تعاون اور سہولت کاری کو سراہا بالخصوص اے ڈی بی کے صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے حوالے سے۔
انہوں نے ترقیاتی نتائج پر اے ڈی بی کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تیاری اور سادہ طریقہ کار تیز تر فنڈز کے اجرا ء اور عملی نتائج کے حصول کے لئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اصلاحات کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت اور عملدرآمد کی بہتری میں تعاون کے لئے اے ڈی بی کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا۔اے ڈی بی حکام نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت کو سراہتے ہوئے ای ایف ایف سے ہم آہنگ مزید بجٹ سپورٹ فراہم کرنے کی تیاری کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے مستقبل کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی جن میں انشورنس سیکٹر اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، پنشن اصلاحات، اور ماحولیاتی تحفظ و سماجی شعبے کی مسلسل معاونت شامل ہے۔وفد نے نجی شعبے میں اے ڈی بی کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر بھی روشنی ڈالی جس میں ممکنہ نجی شعبہ لین دین، گارنٹیز اور پی پی پی منصوبے شامل ہیں جن میں مجوزہ ایئرپورٹ ٹرانزیکشنز بھی زیر غور ہیں۔
پاکستان میں اے ڈی بی کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے بشمول نئے کنٹری آپریشنز ہیڈ کی تعیناتی کو گہرے تعاون اور بہتر منصوبہ سازی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔ دونوں فریقین نے پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جس کا محور ترقیاتی اثرات، شفافیت، نجی شعبے کی ترقی اور جامع و پائیدار معاشی نمو ہوگا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آئندہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور 2026 اور اس کے بعد کے ترقیاتی منصوبہ جات کے لئے قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔







