وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کا اجلاس

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کا اجلاس پیر کو وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے وزارتِ تجارت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کا اجلاس پیر کو وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی نے وزارتِ تجارت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے پیش کئے گئے ایجنڈا آئٹمز کا جائزہ لیا اور منظوری دی۔ ان میں پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک خالی آزاد ڈائریکٹر کی تقرری، چیئرمین بورڈ کی تقرری، ایکس آفیشیو عہدوں سے متعلق سفارشات اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو اور اگنائٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اراکین کی تقرری شامل تھیں۔

مزید برآں کمیٹی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کی منظوری دی جس کے تحت یونیورسل سروسز فنڈ کمپنی (یو ایس ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موبائل سیلولر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے نامزد ڈائریکٹر کے طور پر سی ای او، زونگ کی نامزدگی کی گئی، جو بورڈ کی باقی مدت یعنی جون 2026 تک مؤثر رہے گی۔وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے مورافکو انڈسٹریز لمیٹڈ (ایم آئی ایل ) سے متعلق ایجنڈا آئٹم پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے ہدایت کی کہ وزارت قانون ڈویژن سے مشاورت کے ساتھ، ادارے کو تحلیل کرنے کے عمل سے متعلق ایک تفصیلی تجویز دوبارہ پیش کرے جیسا کہ اس سے قبل فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

کمیٹی نے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کے سابقہ فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست پر مشتمل سمری پر بھی غور کیا۔وزارت نے آگاہ کیا کہ اگرچہ حکومتی ہدایات کے مطابق پی ٹی ڈی سی کے زیادہ تر آپریشنل اور تجارتی اثاثے آؤٹ سورس کئے جا چکے ہیں تاہم سیاحت کے شعبے میں بین الصوبائی ہم آہنگی کے لئے ایک مؤثر قومی سطح کے نظام کی اب بھی ضرورت ہے۔

وزارت کے مطابق مرکزی رابطہ ادارے کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان بین الاقوامی سطح پر سیاحت کی ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی پیش کرنے اور صوبائی سیاحتی اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے سے قاصر رہا ہے۔ اس تناظر میں ایک مختصر، مؤثر اور مناسب حجم کے ’’سنٹر آف ایکسی لینس‘‘کے قیام کی تجویز دی گئی تاکہ بین الحکومتی رابطہ، پالیسی معاونت اور سیاحت کے فروغ میں مدد فراہم کی جا سکے۔

کابینہ کمیٹی نے اس معاملے پر تفصیلی غور کے بعد وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی آرا ء اور تجاویز کو شامل کرتے ہوئے ایک جامع اور تفصیلی منصوبے کے ساتھ سمری دوبارہ پیش کرے۔ اس منصوبے میں عملے کی ضرورت، گورننس سٹرکچر اور قومی سیاحتی حکمتِ عملی کی معاونت میں پی ٹی ڈی سی کے کردار کے جواز کو واضح کیا جائے، نیز جاری کنسلٹنسی مطالعات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

کمیٹی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ سابقہ فیصلے پر کسی بھی قسم کی نظرِ ثانی واضح بزنس کیس کی بنیاد پر ہونی چاہئے اور اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ سرکاری اداروں کی اصلاحات اور رائٹ سائزنگ سے متعلق حکومتی وسیع تر ایجنڈے کے ساتھ تسلسل، شفافیت اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔