اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کی کوشش اور خوف و ہراس پھیلانے کے مقدمے میں برطانوی نژاد پاکستانی ملزم عاقب خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ پیر کے روز کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان …
برطانوی نژاد پاکستانی ملزم عاقب خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کی کوشش اور خوف و ہراس پھیلانے کے مقدمے میں برطانوی نژاد پاکستانی ملزم عاقب خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ پیر کے روز کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل برٹش نیشنل ہے اور اسے پاکستانی قوانین سے مکمل آگاہی نہیں تھی۔
وکیل کے مطابق یہ دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا اور پولیس نے حقائق کے برعکس جھوٹ پر مبنی ایف آئی آر درج کی ہے۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو بتایا کہ غیر ملکی شہریوں پر لازم ہے کہ وہ پاکستانی قوانین کی زیادہ پاسداری کریں ۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم سے اسلحہ برآمد ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ٹریفک پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی نیت سے کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ ملزم نے کمرشل ایریا میں خوف و ہراس پھیلایا جس کے ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں ۔ پراسیکیوٹر نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی نظائر کے مطابق عوامی مقامات پر خوف و ہراس پھیلانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا ملزم ضمانت کا مستحق نہیں ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم عاقب خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی ۔ ملزم کے خلاف تھانہ آئی نائن میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔







