اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح کے وفد کو کراچی کے دورے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تمام جائز مسائل کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔یہاں جاری بیان کے مطابق پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے مسائل کے حل کے حوالے سے زوم اجلاس وفاقی وزیر …
وفاقی وزیرعبدالعلیم خان کی زیرصدارت اجلاس، گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ سطحی وفد کو کراچی جانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح کے وفد کو کراچی کے دورے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تمام جائز مسائل کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔یہاں جاری بیان کے مطابق پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے مسائل کے حل کے حوالے سے زوم اجلاس وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی صدارت منعقد ہوا۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹرویز، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز کے افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندگان نے وفاقی وزیر کو ٹرانسپورٹرز کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا جن میں ایکسل لوڈ کی حد، ٹول ٹیکس میں اضافہ اور موٹروے پولیسنگ سے متعلق مسائل شامل ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کی ہڑتال آٹھویں روز میں داخل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں اشیاء کی نقل و حمل میں خلل اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ طویل ہڑتالیں تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ہیں، بالخصوص ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو ہڑتالوں سے زیادہ نقصان ہو گا۔ انہوں نے تمام جائز مسائل کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اس سے قبل ہڑتال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے وفاقی وزیر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی وفد کو فوری طور پر کراچی روانہ ہونے کی ہدایت دی تاکہ وہ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھائیں اور بروقت اور دوستانہ حل تک پہنچیں۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا، سڑکوں کی حفاظت اور حادثات کی روک تھام سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور کہا کہ جو لوگ سڑک کے حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں وہ “ہمارے اپنے بچے” ہیں اور ان کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ناردرن بائی پاس کو چھ سے آٹھ لین میں وسعت دینے کا کام جاری ہے اور گڈز ٹرانسپورٹرز کی سہولت کے لیے کے پی ٹی اور پورٹ قاسم میں پارکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انفراسٹرکچر کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسل لوڈ کی پابندی گڈز ٹرانسپورٹ مالکان کے طویل مدتی مفاد میں ہے کیونکہ اس سے سڑک کی حفاظت ممکن ہوتی ہے اور قومی ہائی ویز کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندگان نے مذاکرات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور وزراء کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔







