پاکستانی کارروائی کا بھارت کے غیر قانونی حملوں سے موازنہ سراسر غلط اور غیر مناسب ہے، خواجہ محمد آصف

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان–پاکستان سرحد پر ٹی ٹی پی خارجیوں کے مستند دہشت گرد کیمپوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی کا موازنہ بھارت کی جانب سے بہاولپور اور مریدکے میں مساجد اور مدارس پر کئے گئے غیر قانونی حملوں سے کرنا سراسر غلط اور غیرمناسب ہے ۔ منگل کو ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان–پاکستان سرحد پر ٹی ٹی پی خارجیوں کے مستند دہشت گرد کیمپوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی کا موازنہ بھارت کی جانب سے بہاولپور اور مریدکے میں مساجد اور مدارس پر کئے گئے غیر قانونی حملوں سے کرنا سراسر غلط اور غیرمناسب ہے ۔ منگل کو ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشت گرد عناصر ہوتے ہیں جبکہ بھارت نے دانستہ طور پر عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ عالم اور اقوامِ متحدہ خود افغان طالبان کے زیرِ سایہ افغانستان میں پنپنے والی دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، پاکستان میں آئے روز افغانستان سے داخل ہونے والی دہشت گرد تنظیمیں اور دہشت گرد عناصر اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ وزیر دفاع نے پہلگام واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت آج تک اس واقعہ پر کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا جبکہ پاکستان نے نہ صرف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی بلکہ عالمی برادری کے سامنے اپنا مؤقف کھلے دل سے رکھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارتی جارحیت غیر قانونی، بے بنیاد اور ناقابلِ جواز تھی جبکہ پاکستان کا دفاعی ردِعمل مکمل طور پر جائز اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا۔خواجہ محمد آصف نے مزید کہا کہ بھارت اور اس کی پراکسی خوارج اور ان کے ہمدردوں سے متعلق تمام شکوک و شبہات کو پاکستان نے کل بھی دور کیا تھا اور آج بھی الحمدُ للہ ریاست ہر محاذ پر مکمل طور پر چوکس اور مضبوط ہے۔