اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط دورِ حکمرانی کو مقامی طرزِ حکومت کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے اس کے سیکولر کردار، انتظامی وحدت اور مقامی دستکاری کی بھرپور روایت کو اجاگر کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا ہال لاہور میں افکارِ تازہ تھنک فیسٹ 2026 کے سلسلے میں منعقدہ نمائش کی افتتاحی تقریب …
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت مقامی،سیکولرطرزحکمرانی کا بہترین نمونہ ہے،مرتضیٰ سولنگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط دورِ حکمرانی کو مقامی طرزِ حکومت کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے اس کے سیکولر کردار، انتظامی وحدت اور مقامی دستکاری کی بھرپور روایت کو اجاگر کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا ہال لاہور میں افکارِ تازہ تھنک فیسٹ 2026 کے سلسلے میں منعقدہ نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے عہدِ حکومت میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کو متحد کیا اور اس کی حدود کو پشاور، کشمیر اور ملتان تک وسعت دی۔انہوں نے اُس زمانے کے انتظامی ڈھانچے کی شمولیتی نوعیت کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ذاتی مذہبی عقائد کے باوجود مسلمانوں اور ہندوؤں کو حکومت میں اہم مناصب حاصل تھے۔
اُن کے بقول، “یہ ایک نسبتاً سیکولر دورِ حکومت تھا جو تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔”ڈاکٹر مرتضیٰ تاج اور ڈاکٹر نذرا کی مرتب کردہ نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ان کی کاوشوں نے اُس دور کی غیر معمولی دستکاری کو قریب سے دیکھنے کا قیمتی موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نمائش میں پیش کی گئی بیشتر اشیا لوٹ مار یا غنیمت کا نتیجہ نہیں بلکہ مقامی ذہانت اور پنجاب کے کاریگروں کی اعلیٰ مہارت کی عکاس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نمائش میں اسلحہ، سکے، زیورات، سونے کے نوادرات اور بگھیاں سمیت متعدد اشیا رکھی گئی ہیں، جو خطے کے عوام کی تخلیقی صلاحیتوں اور ہنرمندی کی گواہی دیتی ہیں۔مرتضیٰ سولنگی نے تاریخی ورثے کے تحفظ اور پیشکش پر ڈاکٹر مرتضیٰ تاج اور ڈاکٹر نذرا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت نے بالخصوص نوجوانوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت اور اُن چار دہائیوں میں ہونے والی پیش رفت کی اہمیت بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے دوبارہ جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔








