لاہور۔7فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ گلابی سنڈی کپاس کا ایک خطرناک کیڑا ہے جس کے حملہ سے نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ کپاس کی گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گلابی سنڈی کا کوئی میزبان پودا نہیں ہے لہذا آف …
کاشتکار اگیتی کپاس کی کاشت سے قبل آف سیزن مینجمنٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں، ترجمان

مزید خبریں
لاہور۔7فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ گلابی سنڈی کپاس کا ایک خطرناک کیڑا ہے جس کے حملہ سے نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ کپاس کی گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گلابی سنڈی کا کوئی میزبان پودا نہیں ہے لہذا آف سیزن مینجمنٹ پر عمل کر کے اس کی نسل کو تلف کیا جا سکتا ہے تاکہ کپاس کی آئندہ فصل اس کے حملے سے محفوظ رہے۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ کپاس کی چھڑیوں کو اگر ایندھن کیلئے رکھنا مقصود ہو تو چھوٹے گٹھے بنا کر اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نیچے کی طرف ہوں تاکہ دھوپ لگنے سے باقی ماندہ ٹینڈوں سے گلابی سنڈی کے پروانے نکل کر کپاس کی اگلی فصل سے پہلے ضائع ہو جائیں۔جیننگ فیکٹریوں میں موجود کپاس کا کچرا اور گلابی سنڈے کے لاروے جو کہ جڑواں بیجوں کی شکل میں ہوتے ہیں کی تلفی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
چھڑیوں کے ڈھیر یا گٹھوں کو الٹ پلٹ کریں تاکہ نیچے کچرا میں موجود گلابی سنڈی کے پیوپے بھی تلف ہو جائیں۔ اس کے علاوہ جیننگ فیکٹریوں میں گلابی سنڈی کے لاروے کی تلفی کیلئے اقدامات کئے جانے چاہیں۔ یہ تمام اقدامات کپاس کی اگیتی کاشت سے پہلے ترجیحا کر لینے چاہیں تاکہ پیداوار میں کمی واقع نہ ہو۔








